اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 17 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 17

۱۷ تھے۔راجہ صاحب کا خاندان مسلمان استادوں سے عربی اور فارسی پڑھتا تھا۔اس لحاظ سے اسلامی لٹریچر کا ہر جگہ اثر تھا۔ہندو بڑے شوق سے فارسی سیکھتے تھے۔راجہ صاحب کا حکم تھا کہ تحریر و تقریر میں خالص زبان استعمال کی جائے یعنی اردو میں انگریزی کا لفظ ہرگز استعمال نہ ہو۔اور انگریزی میں اردو کا نہ ہو۔اگر کوئی اس کے خلاف کرتا تو راجہ صاحب چڑ جاتے تھے۔یہ امر علمی فروغ کا باعث ہوا۔بعض دفعہ آل انڈیا مشاعرے بھی کپورتھلہ میں ہوتے تھے۔جن میں حکومت کی طرف سے پوری امداد اور تعاون بہم پہنچتا تھا۔ہندوستان بھر کے مشہور ادیب اور شاعر جمع ہوتے تھے۔۱۹۴۷ء تک یہ سلسلہ کسی نہ کسی رنگ میں جاری رہا لیکن پھر صبح تک وہ بھی نہ چھوڑی تو نے اے بادصبا یادگار رونق محفل تھی پروانے کی خاک پور تھلہ کے حالات میں اس لئے بیان کر رہا ہوں کہ اس ماحول کا اندازہ ہو جہاں پر مسیح موعود علیہ السلام کے خدام اولین رہتے تھے۔ریاست کی آبادی میں ۵۶ فیصدی مسلمان تھے۔اسلامی علم و ادب اور تمدن کا اثر تھا اور مسلم اور غیر مسلم ایک دوسرے کی تقریبات میں شامل ہوتے تھے۔بیاہ شادی کے موقعہ پر ایک دوسرے کو تنبول دیتے۔کھانا اکٹھے کھاتے اور رواداری کا رنگ ہر محفل میں تھا۔ترک شعر گوئی والد صاحب کے متعلق ذکر شعر و سخن تھا مندرجہ بالا اشعار سے ظاہر ہوتا ہے کہ طبیعت رسا تھی۔لیکن دو چار نظموں کے سوا اور وہ بھی نو عمری میں آپ نے مسلسل مشق سخن نہیں کی۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بازیاب ہونے کے بعد شعر گوئی کو ترک کر دیا۔جیسا کہ مندرجہ ذیل واقعہ سے ظاہر ہے۔خاکسار کی بہت چھوٹی عمر تھی اور میں ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا کہ میں نے تک بندی کے طور پر ایک غزل لکھی اور جیسا کہ بچوں کا شوق ہوتا ہے والد صاحب کے ایک