اصحاب احمد (جلد 4) — Page 191
۱۹۱ سوالات جو وہ اپنے گھر سے لکھ کر لایا تھا ایک شخص سے نقل کروانے لگا وہ بھی میرا واقف تھا۔مجد دعلی خاں اس کا نام تھا۔میں نے ان سے کہا کہ حضرت صاحب خالی بیٹھے ہوئے ہیں۔جب آپ سوال لکھ کر لائے ہیں تو دے دیں تا کہ حضور جواب لکھیں۔وہ کہنے لگے کہ یہ تو نوٹ ہیں۔حالانکہ وہ حرف بحرف نقل کرار ہے تھے۔دہلی والوں نے میرے خلاف شور کیا کہ آپ کیوں اس بارے میں دخل دیتے ہیں۔مجھے مولوی عبدالکریم صاحب نے آواز دی کہ آپ یہاں آجائیں۔میں چلا گیا لیکن تھوڑی دیر میں اٹھ کر میں مولوی محمد بشیر صاحب کے پاس چلا گیا کہ دیکھوں انہوں نے ختم کیا ہے یا نہیں۔میں نے کہا مولوی صاحب پیسے ہوئے کو پینا یہ کوئی دانائی ہے۔پھر مجھے مولوی عبدالکریم صاحب نے آوازیں دیں کہ تم یہاں آجاؤ۔میں پھر چلا گیا۔حضرت صاحب نے فرمایا۔آپ کیوں جاتے ہیں۔تیسری دفعہ میں پھر اٹھ کر چلا گیا۔پھر حضرت صاحب او پر اٹھ کر چلے گئے اور میرے متعلق کہا کہ یہ بہت جوش میں ہیں۔جب وہ لکھ چکیں مجھے بھیج دینا۔پھر جب وہ اپنا مضمون تیار کر چکے تو ہم نے حضرت صاحب کے پاس پہنچا دیا۔آپ نے مجھے فرمایا کہ تم یہیں کھڑے رہو۔دو ورقہ جب تیار ہو جائے تو نقل کرنے کے لئے دوستوں کو دے دینا۔د میں نے دیکھا کہ حضور نے اس مضمون پر صفحہ وار ایک اچٹتی نظر ڈالی انگلی پھیرتے ہوئے اور پھر ورق الٹ کر اس پر بھی انگلی پھیرتے ہوئے نظر ڈالی لی۔اسے علیحدہ رکھ دیا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پڑھا نہیں محض ایک سرسری نگاہ سے دیکھا ہے اور جواب لکھنا شروع کر دیا۔جب دوورقہ تیار ہو گیا تو میں نیچے نقل کرنے کے لئے دے آیا۔دو ورقے کو ایک ایک ورق کر کے ایک مولوی عبدالکریم صاحب نے نقل کرنا شروع کیا۔اور ایک عبد القدوس نے۔اس طرح میں اوپر سے جب دو ورقہ تیار ہوتا ہے