اصحاب احمد (جلد 4) — Page 183
۱۸۳ چنانچہ دوروپے انہوں نے حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کر دیئے۔آٹھ دس دن رہ کر جب ہم واپسی کے لئے اجازت لینے لگے تو حضور نے اجازت فرمائی اور منشی صاحب کو کہا آپ ذرا ٹھہرئیے۔پھر آپ نے دس یا پندرہ روپے منشی صاحب کو لا کر دیئے۔منشی صاحب رونے لگے اور عرض کی حضور مجھے خدمت کرنی چاہیئے یا میں حضور سے لوں۔حضرت صاحب نے مجھے ارشاد فرمایا کہ یہ آپ کے دوست ہیں آپ انہیں سمجھائیں۔پھر میرے سمجھانے پر کہ ان میں برکت ہے انہوں نے لے لئے۔اور ہم چلے آئے۔حالانکہ حضرت صاحب کومنشی صاحب کی حالت کا بالکل علم نہ تھا۔۸۰۔ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے موقعہ پر خرچ نہ رہا۔ان دنوں جلسہ سالانہ کے لئے چندہ ہو کر نہیں جاتا تھا۔حضور اپنے پاس سے ہی صرف فرماتے تھے۔میر ناصر نواب صاحب مرحوم نے آکر عرض کی کہ رات کو مہمانوں کے لئے کوئی سامان نہیں ہے۔آپ نے فرمایا کہ بیوی صاحبہ سے کوئی زیور لے کر جو کفایت کر سکے فروخت کر کے سامان کرلیں۔چنانچہ زیور فروخت یا رہن کر کے میر صاحب روپیہ لے آئے اور مہمانوں کے لئے سامان بہم پہنچا دیا۔دو دن کے بعد پھر میر صاحب نے رات کے وقت میری موجودگی میں کہا کہ کل کے لئے پھر کچھ نہیں۔فرمایا کہ ہم نے برعائیت ظاہری اسباب کے انتظام کر دیا تھا۔اب ہمیں ضرورت نہیں جس کے مہمان ہیں وہ خود کرے گا۔اگلے دن آٹھ یا نو بجے جب چھٹی رسان آیا۔تو حضور نے میر صاحب کو اور مجھے بلایا۔چھٹی رسان کے ہاتھ میں دس پندرہ کے قریب منی آرڈر ہوں گے۔جو مختلف جگہوں سے آئے ہوئے تھے سوسو پچاس پچاس روپے کے اور ان پر لکھا تھا کہ ہم حاضری سے معذور ہیں۔مہمانوں کے صرف کے لئے یہ روپے بھیجے جاتے ہیں۔آپ نے وصول فرما کر تو کل پر تقریر فرمائی۔اور بھی چند آدمی تھے۔جہاں