اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 168 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 168

۱۶۸ کہا حضور بخار اندر ہے اس پر ہنس کر فرمانے لگے اچھا آپ اندر ہی آ جائیے۔عصر کے وقت تک میں اندر رہا۔بعد عصر میں نے خود ساتھ جانے کی جرات نہ کی۔میں بالکل تندرست ہو چکا تھا۔۵۳ ۵۴۔حضرت صاحب اپنے بیٹھنے کی جگہ کھلے کواڑ کبھی نہ بیٹھتے۔بلکہ کنڈا لگا کر بیٹھتے تھے۔حضرت صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب تھوڑی تھوڑی دیر بعد آکر کہتے ” با کنڈا کھول“ اور حضور اٹھ کر کھول دیتے۔میں ایک دفعہ حاضر خدمت ہوا۔حضور بوریئے پر بیٹھے تھے۔مجھے دیکھ کر آپ نے پلنگ اٹھایا۔اندر اٹھا کر لے گئے۔میں نے کہا حضور میں اٹھالیتا ہوں۔آپ فرمانے لگے بھاری زیادہ ہے۔آپ سے نہیں اٹھے گا۔اور فرمایا آپ پلنگ پر بیٹھ جائیں۔مجھے یہاں نیچے آرام معلوم ہوتا ہے۔پہلے میں نے انکار کیا۔لیکن آپ نے فرمایا نہیں آپ بلا تکلف بیٹھ جائیں۔پھر میں بیٹھ گیا۔مجھے پیاس لگی تھی۔میں نے گھڑوں کی طرف نظر اٹھائی۔وہاں کوئی پانی پینے کا برتن نہ تھا۔آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا۔کیا آپ کو پیاس لگ رہی ہے۔میں پانی لاتا ہوں۔نیچے زنانے سے جا کر آپ گلاس لے آئے۔پھر فرمایا ذرا ٹھہرئیے۔اور پھر نیچے گئے اور وہاں سے دو بوتلیں شربت کی لے آئے۔جو منی پور سے کسی نے بھیجی تھیں۔بہت لذیذ شربت تھا۔فرمایا کہ ان بوتلوں کو رکھے ہوئے بہت دن ہو گئے۔کیونکہ ہم نے نیت کی تھی کہ پہلے کسی دوست کو پلا کر پھر خود پیئیں گے۔آج مجھے یاد آ گیا۔چنانچہ آپ نے گلاس میں شربت بنا کر مجھے دیا۔میں نے کہا پہلے حضور اس میں سے تھوڑا سا پی لیں۔تو پھر میں پیوں گا۔آپ نے ایک گھونٹ پی کر مجھے دے دیا۔اور میں نے پی لیا۔میں نے شربت کی تعریف کی۔آپ نے فرمایا کہ ایک بوتل آپ لے جائیں۔اور ایک باہر دوستوں کو پلا دیں۔آپ نے ان دونوں بوتلوں میں سے وہی ایک گھونٹ پیا ہوگا۔میں آپ کے حکم کے مطابق بوتلیں لے کر