اصحاب احمد (جلد 4) — Page 167
۱۶۷ ۵۳۔ایک دن مسجد اقصیٰ میں آپ تقریر فرما رہے تھے۔کہ میرے درد گردہ شروع ہو گیا۔اور باوجود بہت برداشت کرنے کی کوشش کے میں برداشت نہ کر سکا اور چلا آیا۔میں اس کو ٹھے پر جس میں پیر سراج الحق صاحب مرحوم رہتے تھے ٹھہرا ہوا تھا ( متصل مکان مفتی فضل الرحمن صاحب) حضرت صاحب نے تقریر میں سے ہی حضرت مولوی نورالدین صاحب کو بھیجا۔انہوں نے درد گردہ معلوم کر کے دوا بھیجی۔مگر اس کا کچھ اثر نہ ہوا۔تکلیف بڑھتی گئی۔پھر حضور جلدی تقریر ختم کر کے میرے پاس آگئے۔اور مولوی عبداللہ صاحب سنوری سے جو ساتھ تھے فرمایا کہ آپ پرانے دوست ہیں۔منشی صاحب کے پاس ہر وقت رہیں۔اور حضور پھر گھر سے دوا لے کر آئے اور اس طرح تین دفعہ یکے بعد دیگرے دوا بدل کر خود لائے۔تیسری دفعہ جب تشریف لائے تو فرمایا کہ زینے پر چڑھنے اترنے میں دقت ہے۔آپ میرے پاس ہی آجا ئیں۔آپ تشریف لے گئے اور مولوی عبداللہ صاحب سنوری مجھے سہارا دے کر حضرت صاحب کے پاس لے گئے۔راستہ میں دو دفعہ میں نے دعا مانگی۔مولوی صاحب پہچان گئے اور کہنے لگے تم یہ دعا مانگتے ہو گے کہ مجھے جلدی آرام نہ ہوتا کہ دیر تک حضرت صاحب کے پاس ٹھہرا رہوں۔میں نے کہا ہاں یہی بات ہے۔جب میں آپ کے پاس پہنچا تو آپ کھانا کھا رہے تھے۔دال۔مولیاں۔سرکہ۔اس قسم کی چیزیں تھیں جب آپ کھانا کھا چکے تو آپ کے سامنے کا کھانا ہم دونوں نے اٹھالیا اور باوجو یکہ کہ مجھے مسہل آور دوائیں دی ہوئی تھیں۔اور ابھی کوئی اسہال نہیں آیا تھا۔میں نے وہ چیزیں روٹی سے کھالیں۔اور حضور نے منع نہیں فرمایا۔چند منٹ کے بعد درد کو آرام آگیا۔کچھ دیر بعد ظہر کی اذان ہوگئی۔ہم دونوں مسجد میں آپ کے ساتھ نماز پڑھنے آگئے۔فرضوں کا سلام پھیر کر حضور نے میری نبض دیکھ کر فرمایا۔آپ کو تو اب بالکل آرام آگیا۔میرا بخار بھی اتر گیا تھا۔میں نے