اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 165 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 165

صاحب ایک دوست اور مفتی فضل الرحمن صاحب قادیان کو یکے میں روانہ ہوئے۔بارش سخت تھی اس لیے یکے کو واپس کرنا پڑا اور ہم بھیگتے رات دو بچے کے قریب قادیان پہنچے۔حضور اسی وقت باہر تشریف لے آئے ہمیں چائے پلوائی اور بیٹھے باتیں پوچھتے رہے۔ہماری سفر کی تمام کوفت جاتی رہی۔پھر حضور تشریف لے گئے۔۵۱۔میں جب قادیان جا تا تو اس کمرے میں ٹھہرتا جو مسجد مبارک سے ملحق ہے اور جس میں ہو کر حضرت مسجد میں تشریف لاتے تھے۔ایک مولوی جو ذی علم شخص تھا قادیان آیا۔بارہ نمبر دار اس کیساتھ تھے۔وہ مناظرہ وغیرہ نہیں بلکہ حالات کا مشاہدہ کرتا تھا۔ایک مرتبہ رات کو تنہائی میں میرے پاس اس کمرے میں وہ آیا اور کہا کہ ایک بات مجھے بتائیں اور کہا کہ مرزا صاحب کی عربی تصانیف ایسی کوئی فصیح و بلیغ عبارت نہیں لکھ سکتا۔ضرور مرزا صاحب کچھ علماء سے مدد لے کر لکھتے ہوں گے۔اور وہ وقت رات کا ہی ہو سکتا ہے۔تو کیا رات کو کچھ ایسے آدمی آپ کے پاس رہتے ہیں میں نے کہا مولوی محمد چراغ اور مولوی معین الدین ضرور آپ کے پاس رات کو رہتے ہیں۔یہ رات کو ضرورا مداد کرتے ہیں۔حضرت صاحب کو میری یہ آواز پہنچ گئی۔اور حضور اند رخوب ہنسے اور مجھ تک حضور کی ہنسی کی آواز آئی۔حضور بہت ہنسے۔مولوی مذکور اٹھ کر چلا گیا اگلے روز جب مسجد میں بعد عصر حسب معمول حضور بیٹھے۔تو وہ مولوی بھی موجود تھا۔حضور میری طرف دیکھ کر خود بخود ہی ہنس پڑے اور ہنستے ہوئے فرمایا کہ ان علماء کو انہیں دکھلا تو دو اور پھر ہنسنے لگے مولوی عبد الکریم صاحب کو رات کا واقعہ حضور نے سنایا تو وہ بھی ہنسنے لگے۔میں نے چراغ اور معین الدین کو بلا کر مولوی صاحب کے سامنے کھڑا کر دیا۔چراغ ایک بافندہ ان پڑھ حضرت صاحب کا نوکر تھا۔اور معین الدین صاحب نابینا تھے۔جو حضرت صاحب کے پیر دبایا کرتے تھے۔وہ شخص ان دونوں کو دیکھ کر چلا گیا۔اور