اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 164 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 164

۱۶۴ ان پر فدا کر سکتے ہیں۔میں نے جواب دیا کہ جان و مال کی حفاظت کے لئے تو ہم نے بیعت کی ہے۔وہ مجھے سوال میں پھانسنا چاہتا تھا۔مگر یہ جواب سن کر حیران رہ گیا۔گواہوں کے بیانات نوٹ کرنے کے لئے حضرت صاحب مجھے تقریباً ہر مقدمہ میں اندر بلا لیا کرتے تھے۔ایک دفعہ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے میری اس خوش قسمتی بوجه زود نویسی پر رشک کا اظہار فرمایا۔۴۸۔چند ولعل مجسٹریٹ آریہ تھا۔اور اس زمانہ میں وہ کھدر پوش تھا۔ایک دن دوران مقدمہ میں حضور کا بیان ہوتا تھا۔اور آدمیوں کی اس دن بہت کثرت تھی۔اس لئے چند ولعل نے اس دن باہر میدان میں کچہری لگائی۔اور حضرت صاحب کے بیان کے درمیان میں دریافت کیا آپ کو نشان نمائی کا بھی دعوی ہے؟ آپ نے فرمایا۔ہاں۔اور تھوڑی دیر میں آپ نے فرمایا۔جو نشان آپ چاہیں میں اس وقت دکھا سکتا ہوں۔اور یہ بڑے جوش میں آپ نے فرمایا۔اس وقت وہ سناٹے میں آگیا اور لوگوں پر اس کا بڑا اثر ہوا۔’۴۹۔ایک دفعہ چند ولعل نے حضرت صاحب کے الہام انی مهین من ارادا اهانتک کے متعلق سوال کیا کہ یہ خدا نے آپ کو بتایا ہے؟ آپنے فرمایا یہ اللہ کا کلام ہے۔اور اس کا مجھ سے وعدہ ہے۔وہ کہنے لگا جو آپ کی ہتک کرے وہ ذلیل وخوار ہو گا۔آپ نے فرمایا۔بیشک۔اس نے کہا اگر میں کروں۔آپ نے فرمایا چاہے کوئی کرے۔تو اس نے دو تین دفعہ کہا اگر میں کروں۔آپ یہی فرماتے رہے چاہے کوئی کرے۔پھر وہ خاموش ہو گیا۔۵۰۔ایک مقدمہ کے تعلق سے میں ایک دفعہ گورداسپور میں رہ گیا تھا۔حضور کا پیغام پہنچا کہ واپسی میں ملکر جائیں۔چنانچہ میں اور شیخ نیاز احمد