اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 157 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 157

۱۵۷ یا ظفر المظفر (وہ دوستانہ بے تکلفی میں مجھے اس نام سے مخاطب کر کے فرمایا کرتے تھے ) ذرا جالندھر کی سیر تو کراؤ۔چنانچہ ہم چل پڑے۔راستہ میں دیکھا کہ گویا ایک بارات آرہی ہے۔اور اس کیساتھ دیسی اور انگریزی باجا اور طوائف وغیرہ ہیں۔ان کے پیچھے ایک شخص گھوڑے پر سوار بٹیرے کا پنجرا ہاتھ میں لئے آ رہا ہے۔معلوم ہوا کہ یہ تمام جلوس اس بٹیرے کی لڑائی جیتنے کی خوشی میں ہے۔میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ یہ بارات ورات کچھ نہیں۔یہ تو بٹیرے کی کشتی جیتنے کی خوشی میں ہے۔مولوی عبد الکریم صاحب یہ دیکھ کر سٹرک پر ہی سجدے میں گر پڑے اور سخت مغموم ہوئے۔بوجہ مسلمانوں کی اس ابتر حالت کے۔اور یہی فرماتے رہے کہ او ہو مسلمانوں کی حالت اس درجہ پر پہنچ گئی ہے ہم واپس آگئے۔۳۹۔انہی ایام میں میر عباس علی صاحب بھی اپنے کسی مرید کے ہاں آکر جالندھر میں ٹھہرے ہوئے تھے۔حضرت صاحب نے مجھے فرمایا کہ وہ آپ کے پرانے ملنے والے ہیں ان کو جا کر کچھ سمجھاؤ۔پیراند تا جو ایک فاتر العقل شخص تھا۔اور حضرت صاحب کے پاس رہتا تھا۔اس نے کہا جور میں وی جا کے سمجھاواں حضرت صاحب نے فرمایا ہاں منشی صاحب کے ساتھ چلے جاؤ۔میں میر عباس علی کی قیام گاہ پر گیا۔آٹھ دس آدمی فرش پر بیٹھے تھے اور میر صاحب چار پائی پر۔ایک تخت بھی وہاں تھا۔دوروں (بڑے بڑے پیالوں) میں پوست بھیگے ہوئے تھے۔پیراند تا کو دیکھ کر عباس علی صاحب نے اسے بے تکلفانہ پکارا او پیراند تا! اوپیراندتا ! اور مجھ سے سلام علیکم کر کے ہنستے ہوئے آیئے آئے کہہ کر بیٹھنے کو کہا۔پیراند تا مجھ سے کہنے لگا۔میں پہلے سمجھالوں۔میں نے کہا سمجھا لے۔پیراند تا کہنے لگا میر صاحب میں تمہیں دونوں وقت کھانا پہنچا تا تھا یا نہیں۔اور تمہیں کبھی کبھی میں پیسے بھی دے جایا کرتا تھا۔میر