اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 158 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 158

۱۵۸ صاحب اب بڑے آدمی دور دور سے روٹی کھانے والے آتے ہیں اب جو تم روٹیوں کی خاطر ادھرادھر پھرتے ہو یہ وقت اچھا ہے یا وہ۔جب گھر بیٹھے میں تمہیں روٹی دے جایا کرتا تھا۔اب تم میرے ساتھ چلو۔میں پھر تمہیں روٹی دونوں وقت دے جایا کروں گا۔میر عباس علی ہنستے رہے۔پھر میں نے ان سے کہا آپ کیوں برگشتہ ہو گئے۔وہ کہنے لگے مرزا صاحب کہتے ہیں کہ یہ جسم آسمان پر نہیں جاسکتا۔میں نے اپنے پیر کو خود دیکھا ہے ( مولوی غوث علی پانی پتی ان کے پیر تھے ) ایک دفعہ انہوں نے الا اللہ کا جو نعرہ لگایا تو زمین شق ہوگئی۔اور وہ اس میں سما گئے۔میں نے کہا او پر تو پھر بھی نہ گئے۔اور وہاں قرآن شریف رکھا تھا۔میں نے اٹھا کر میر صاحب کے سر پر رکھ دیا کہ آپ خدا کو حاضر ناظر جان کر بتائیں کہ آپ نے یہ واقعہ خود دیکھا ہے۔وہ کہنے لگے کہ ہمارے پیر نے جب یہ بیان کیا کہ انہوں نے ایک دفعہ ایسا کیا اور ہم انہیں سچا سمجھتے ہیں تو یہ چشم دید ماجرا ہی ہوا۔غرضیکہ جہاں تک ہو سکا۔میں نے ان کو سمجھایا۔مگر اس وقت ان کی حالت بہت بگڑ چکی تھی وہ اقراری نہ ہوئے۔۴۰۔بیعت اولیٰ سے پہلے کا ذکر ہے کہ میں قادیان میں تھا۔فیض اللہ چک میں کوئی تقریب شادی یا ختنہ کی تھی جس پر حضرت صاحب کو معہ چند خدام کے مدعو کیا گیا۔ان کے اصرار پر حضرت صاحب نے دعوت قبول فرمائی۔ہم دس بارہ آدمی حضور کے ہمراہ فیض اللہ چک گئے۔گاؤں کے قریب پہنچے ہی تھے کہ گانے بجانے کی آواز سنائی دی۔جو اس تقریب پر ہو رہا تھا۔یہ آواز سنتے ہی حضور لوٹ پڑے۔فیض اللہ چک والوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے آکر بہت التجا کی۔مگر حضور نے منظور نہ فرمایا۔اور واپس ہی چلے آئے۔راستہ میں ایک گاؤں تھا مجھے اس گاؤں کا نام اس وقت یاد نہیں۔وہاں ایک معز ز سکھ سردار نی تھی اس نے ہمنت حضور کی دعوت کی۔حضور نے فرمایا قادیان قریب ہی ہے۔مگر اس کے اصرار پر