اصحاب احمد (جلد 4) — Page 156
۱۵۶ بحث کرنے کی غرض سے آیا۔حضور نے فرمایا کہ آپ صبح کے وقت آجا ئیں۔اس نے کہا کہ صبح کو مجھے فرصت نہیں ہوتی۔میں اس شخص کو جانتا تھا۔میں نے کہا کہ یہ شخص واقعی صبح کو مشغول ہوتا ہے۔کیونکہ شراب نوشی کا عادی ہے اس پر حاضرین تو مسکرا پڑے۔لیکن حضور نے صرف اس قدر فرمایا کہ آپ اپنے شکوک رفع کرنے کے لئے کوئی اور وقت مقرر کر لیں۔۳۶۔حضرت صاحب نے جالندھر میں زیادہ عرصہ قیام جب رکھا۔تو دوست احباب ٹھہر کر چلے جاتے تھے۔لیکن مولوی عبداللہ صاحب سنوری اور خاکسار برابر ٹھہرے رہے۔ایک دن میں نے اور مولوی صاحب مرحوم نے ارادہ کیا کہ وہ میرے لئے اور میں ان کے لئے رخصت ہونے کی اجازت حاصل کریں۔صبح کو حضور سیر کے لئے تشریف لائے اور آتے ہی فرمایا لو جی میاں عبداللہ صاحب اور منشی صاحب اب تو ہم آپ ہی رہیں گے اور دوست تو چلے گئے۔نئے نو دن۔پرانے سو دن۔بس ہم پھر خاموش ہو گئے اور ٹھہرے رہے۔۴۹ ۳۷۔جالندھر میں ہی حضور ایک دفعہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر تقریر فرمارہے تھے۔اس وقت ایک انگریز بعد میں معلوم ہوا کہ سپرنٹنڈنٹ پولیس تھا آ گیا۔اور ٹوپی اتار کر سلام کیا۔حضور کی تقریر سننے کے لئے کھڑا رہا۔اور باوجود یکہ اس کے بیٹھنے کے لئے کرسی وغیرہ بھی منگوائی گئی تھی۔مگر وہ نہیں بیٹھا۔اور یہ عجیب بات تھی کہ وہ تقریر سنتا ہوا سبحان اللہ سبحان اللہ کہتا تھا۔تھوڑا عرصہ تقریر سن کر سلام کر کے وہ چلا گیا۔اس کے بعد قریباً دوسرے تیسرے دن جب حضور سیر کو تشریف لے جاتے تو ایسا اتفاق ہوتا کہ وہ راستے میں گھوڑے پر سوا رمل جاتا اور گھوڑے کو ٹھہرا کر ٹوپی اتار کر سلام کرتا۔یہ اس کا معمول تھا۔۵۰ ۳۸۔جالندھر میں مولوی عبدالکریم صاحب نے ایک دفعہ مجھے فرمایا