اصحاب احمد (جلد 4) — Page 142
۱۴۲ کی اطلاع کر دو۔میں اور منشی اروڑا صاحب کچہری میں تھے کہ ملا نے آکر اطلاع دی کہ مرزا صاحب مسجد میں تشریف فرما ہیں۔اور انہوں نے مجھے بھیجا ہے۔کہ اطلاع کر دو۔منشی اروڑا صاحب نے بڑی تعجب آمیز ناراضگی کے لہجہ میں پنجابی میں کہا دیکھو تاں تیری مسیت وچ آ کے مرزا صاحب نے ٹھہر ناسی“ میں نے کہا چل کر دیکھنا تو چاہیئے۔پھر منشی صاحب جلدی سے صافہ ( پگڑی) باندھ کر میرے ساتھ چل پڑے۔مسجد میں جا کر دیکھا کہ حضور فرش پر لیٹے ہوئے تھے۔اور حافظ حامد علی صاحب پاؤں دبا رہے تھے۔اور پاس ایک پیالہ اور چمچہ رکھا تھا جس سے معلوم ہوا کہ شاید آپ نے دودھ ڈبل روٹی کھائی تھی۔منشی اروڑا صاحب نے عرض کی کہ حضور نے اس طرح تشریف لائی تھی۔ہمیں اطلاع فرماتے۔ہم کرتار پور سٹیشن پر حاضر ہوتے۔حضور نے جواب دیا۔اطلاع دینے کی کیا ضرورت تھی۔ہم نے آپ سے وعدہ کیا تھا۔وہ پورا کرنا تھا۔ہو : اس بارہ میں حضرت منشی اروڑے خان صاحب کی روایت الحکم مورخہ ۲۸ مارچ ۱۹۳۴ء میں اور ان سے روایت بیان فرمودہ حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی الحکم مورخہ ۲۸ جولائی ۱۹۳۴ء میں اور حضرت منشی صاحب کی روایت الحکم مورخہ ۱۲ تا ۲۸ مئی ۱۹۳۴ء میں درج ہے۔الحکم مورخہ ۷ تا ۱۴ جولائی ۱۹۳۶ء میں مزید یہ مرقوم ہے کہ: ”جب ہم کو خبر ملی تو ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اپنے مکان پر لے آئے۔جہاں بہت بڑا مجمع جمع ہو گیا۔جب ہم آپ کو جشن ہال دکھانے کے واسطے لے گئے تو وہاں مہاراجہ اور انگریز مرد اور عورتیں کھیلنے میں مصروف تھیں۔اور کسی کو جانے کی اجازت نہ تھی۔جب مہا راجہ صاحب کو حضرت صاحب کے آنے کی خبر ہوئی تو انہوں نے اجازت دے دی کہ مرزا صاحب آجا ئیں چنانچہ آپ گئے اور ایک طرف کھڑے رہے اور کسی چیز کی طرف چنداں توجہ نہ کی۔مہا راجہ صاحب نے دور سے حضرت کو دیکھ کر اپنا وزیر بھیجا کہ آپ سے ملاقات کرے مگر آپ پر ایسی حالت