اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 105 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 105

۱۰۵ دعا مانگتا ہے تو وہ صرف اس کے لئے دعا نہیں کر رہا ہوتا۔بلکہ وہ ایک سودا کر رہا ہوتا ہے جس میں یہ خود بہت زیادہ فائدہ میں رہتا ہے۔وہ میت کے لئے دعا کرتا ہے اور فرشتے اس کیلئے دعا کرتے ہیں۔جب حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے وفات پائی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جنازہ پڑھایا۔تو آپ بہت دیر تک ان کے لئے دعا فرماتے رہے۔اور جب نماز جنازہ سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ آج ہم نے اپنی ساری جماعت کے لوگوں کا جنازہ پڑھا دیا ہے۔میں سمجھتا ہوں اس کا بھی یہی مفہوم تھا کہ آپ نے فرشتوں والا کام کیا۔یعنی جس طرح فرشتے جب کسی کو اپنے بھائی کے لئے دعا کرتے دیکھتے ہیں تو خود اس کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرنے لگ جاتے ہیں۔اسی طرح جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھا کہ جماعت کے لوگ خدا تعالیٰ کے ایک نیک بندے کی وفات پر اس کے لئے یہ دعا کر رہے ہیں کہ خدا اس کے مدارج کو بلند کرے اسے اپنے قرب میں جگہ دے اور اسے اپنی رضا کا مقام عطا کرے تو آپ نے بھی ان سب کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا مانگنی شروع کر دی۔کہ اے خدا تو ان دعا کرنے والوں کے مدارج کو بھی بلند فرما۔اور انہیں اپنے قرب میں جگہ دے اور انہیں اپنی رضا کی نعمت سے متمتع فرما۔گویا فرشتوں والا معاملہ آپ نے اپنی جماعت کے تمام افراد سے کیا۔اور اس طرح سب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا سے حصہ مل گیا۔غرض یہ دعا معمولی نہیں ہوتی اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ دوست اس جنازہ میں میرے ساتھ شریک ہوں گے مجھے کسی شخص نے بتایا نہیں کہ جماعت کو کس حد تک ان کے جنازہ کی خبر سے واقف کیا گیا تھا اور کس قدر لوگ جنازہ میں شامل ہوئے۔مگر میرے نزدیک ہر مخلص اس بات کو بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ اگر ایسے جنازہ میں شامل ہوئے مگر میرے نزدیک