اصحاب احمد (جلد 4) — Page 104
۱۰۴ ایک بہت بڑا اور اہم مسئلہ ہوتا ہے۔اور ان لوگوں کے لئے دعا کرنا ان پر احسان کرنا نہیں ہوتا۔بلکہ اپنے اوپر احسان ہوتا ہے۔کیونکہ جوشخص ان لوگوں کے لئے دعا کرتا ہے خدا تعالیٰ اس کا بدلہ دینے کے لئے اپنے فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس دعا کرنے والے کے لئے دعا کریں۔اور یہ تو بات ظاہر ہی ہے کہ تمہاری دعا سے خدا تعالیٰ کے فرشتوں کی دعا زیادہ سنی جائے گی۔حدیثوں میں آتا ہے کہ جب کوئی مومن نماز میں اپنے بھائی کے لئے دعا کرتا ہے۔تو اس وقت وہ اپنے لئے دعا سے محروم نہیں ہوتا بلکہ اس وقت فرشتے اس کی طرف سے کھڑے ہو جاتے ہیں اور جو کچھ خدا تعالیٰ سے وہ اپنے بھائی کے لئے مانگتا ہے اور کہتا ہے کہ خدایا اسے فلاں چیز دے وہی دعا فرشتے اس کے لئے مانگتے ہیں اور کہتے ہیں یا اللہ ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ تو اس دعا کو مانگنے والے کو بھی وہ چیز دے جو یہ اپنے بھائی کے لئے مانگ رہا ہے مثلاً اگر کوئی اپنے ہمسایہ کے لئے دعا کرتا ہے کہ یا اللہ اس کے بچے نیک ہو جائیں تو خدا تعالیٰ کے فرشتے کہتے ہیں کہ یا اللہ اس شخص کے اپنے بچوں کو بھی تو نیک بنا دے۔جب وہ کہتا ہے کہ یا اللہ فلاں شخص کی مالی مشکلات کو دور فرما تو خدا تعالیٰ کے فرشتے کہتے ہیں کہ یا اللہ اس کی مالی مشکلات کو بھی تو دور فرما دے۔اسی طرح جب وہ کہتا ہے کہ یا اللہ فلاں کی عزت پر جو حملہ ہو رہا ہے اس سے اس کو محفوظ رکھ تو خدا تعالیٰ کے فرشتے کہتے ہیں یا اللہ اس کی عزت کو بھی ہر حملہ سے محفوظ رکھ۔غرض جو دعا وہ دوسرے کے لئے کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کے فرشتے وہی دعا ساتھ ساتھ اس کے لئے بھی کرتے جاتے ہیں۔یہی حال جنازہ کی دعا کا ہے جو مرنے والے کیلئے آخری دعا ہوتی ہے۔اس میں بھی خدا تعالیٰ کے فرشتے بہت زیادہ جوش کے ساتھ نماز جنازہ پڑھنے والوں کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔پس جب کوئی شخص جنازہ پر