اصحاب احمد (جلد 4) — Page 78
ZA زیب بدن تھا۔جب تین دن کے بعد ابھی ٹھہر نے کا حکم ہوا تو خیال تھا کہ شاید چند روز کے بعد اجازت ہو جائے۔مگر اجازت کے لیے خود تو زبان ادب کھل نہ سکتی تھی۔اور حضرت کی اپنی محبت اور جذب بھی اجازت نہ دیتے تھے۔مجھ کو یاد ہے کہ دو ہفتہ تک اسی لباس میں رہے۔اب اس میں میلا پن نظر آنے لگا۔وہ عام طور پر سفید لباس گرمیوں میں پہنتے تھے۔ایک دن آئے اور ہنستے ہوئے کہا کہ شیخ صاحب کیا کیا جائے کپڑے میلے ہو رہے ہیں۔میں اور لایا نہ تھا اور اب لکھ کر بھی نہیں منگوا سکتا۔میں وہاں کے خطوط کے جواب بھی نہیں دیتا۔کچھ ایسا انتظام کر دو کہ ظہر کی نماز تک کپڑے صاف ہوں جائیں میں نے کہا کہ میں حضرت سے عرض کروں تو فرمایا۔بالکل نہیں۔یہ چیز تو ان کے علم میں آنی نہیں چاہیے۔تم چاہتے ہو کہ شاہد اس طرح پر اجازت مل جائے۔میں تو کسی رنگ میں اجازت کا سوال پیش ہی نہیں کرنا چاہتا۔ہم لوگ بڑے بے تکلف تھے۔میں نے کہا کہ پھر مطلب کیا ہے۔پگڑی اور پاجامہ کر نہ تو ظہر تک تیار ہو سکتا ہے۔کوٹ نہیں ہو سکتا۔اس وقت کی قادیان آج کی قادیان نہ تھی کہ بیسیوں مشینیں سلائی کا کام کر رہی ہیں کہنے لگے یہ مطلب نہیں۔ایک تہہ بند لاؤ میں باندھ لیتا ہوں۔ان کپڑوں کو اگر دھوبی کپڑے گھاٹ پر دھو دے تو دھلا لو یا پھر گھر میں صابن سے دھلا لو۔صاف ہو جائیں۔پھر دو ہفتہ کے بعد دیکھ لیں گے۔میں نے بہت اصرار کیا کہ نہیں سلوا لیتے ہیں مگر وہ راضی نہ ہوئے۔خیر وہ کپڑے دھلوائے گئے اور ظہر تک تیار ہوئے۔بالآخر جب صورت یہ نظر آئی کہ انہوں نے اجازت تو لینی نہیں۔اسے سوء ادب یقین کرتے ہیں تو میں نے مفتی فضل الرحمن صاحب مرحوم سے کہا ظفر احمد مجھ سے مانتا نہیں۔کپڑے وہ لائے نہ تھے۔ایک ہی جوڑا ہے۔انہوں نے کہا ماننے نہ ماننے کا سوال ہی کیا۔اور تم نے پوچھا ہی کیوں بنوا دینے تھے۔اور اب بھی یہی کرنا چاہئے۔آخر دو جوڑے کپڑوں کے تیار