اصحاب احمد (جلد 4) — Page 77
حضرت اقدس کے کسی سفر میں غیر حاضر نہ رہے حضرت منشی ظفر احمد صاحب ابتدا ء ریاست کپورتھلہ میں اپیل نولیس تھے۔پھر انہوں نے بہت بڑی ترقی کی اور سرکاری ملازمت میں خاص امتیاز حاصل کیا۔دونوں حالتوں میں ایک کثیر العیال انسان کے لیے لمبی غیر حاضریاں سخت مضر ہوتی ہیں مگر انہوں نے حضرت کے سفر میں یا قادیان میں حاضری اور قیام کے لئے کبھی سوچا ہی نہیں۔کہ اس غیر حاضری کا کیا نتیجہ ہو گا۔اس حقیقت کی تہ میں جس قدر انسان غور کرتا ہے۔منشی صاحب کی قربانی نہایت شاندار نظر آتی ہے۔بعض اوقات ایسے حالات پیدا ہو جاتے تھے کہ آج شاید کسی کی سمجھ میں بھی نہ آئیں کہ یہ وابستگان دامن احمد صلی اللہ علیہ وسلم کس رنگ میں رنگین تھے۔کہ وہ خود آیات اللہ تھے۔اور ان سے معجزات سرزد ہوتے تھے۔میں یہ کہہ رہا تھا کہ حضرت اقدس کا شادی کے بعد کا خصوصاً ۱۸۸۹ء کے بعد کا کوئی ایسا سفر نہیں جس میں یہ مرد خدا ساتھ نہ ہو۔بے خود اور مست وو ” وہ قادیان آتے تو بے خود اور مست ہو جاتے۔دنیا اور اس کے علائق سے الگ نظر آتے۔نہ ملا زمت کی پرواہ نہ کسی اور کا ڈر۔وہ واقعہ جس کا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطبہ میں ذکر فرمایا ہے۔وہ میری آنکھوں دیکھا ہوا ہے۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب صرف ایک جوڑا کپڑوں کا جو پہنے ہوئے تھے لے کر آئے تھے۔یہ لوگ طبیعت میں جب بے کلی محسوس کرتے دیوانہ وار بھاگے چلے آتے تھے۔حضرت کو دیکھ لیا کچھ باتیں سن لیں۔زندگی کی نئی روح لے کر واپس چلے گئے۔ان کو خیال تھا کہ تین دن کے بعد تو آہی جاؤں گا۔صرف ایک ہی جوڑا