اصحاب احمد (جلد 4) — Page 64
۶۴ جماعت کپورتھلہ کے وہ بزرگ ( جو جماعت مذکور کے بانیوں میں سے تھے اور جنہوں نے اپنے عشق و وفا کا وہ عملی ثبوت دیا کہ خدا کے برگزیدہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں جنت میں اپنے ساتھ ہونے کا وعدہ دیا۔گویا یہ وہ لوگ تھے جو عشرہ مبشرہ کے نمونہ کے لوگ تھے۔میری تحقیقات میں کپورتھلہ کی جماعت کے آدم حضرت منشی ظفر احمد صاحب رضی اللہ عنہ تھے۔اور ان کے اخلاص اور عملی زندگی نے دوسروں کو شیدائے مسیح موعود کر دیا۔اور پھر یہ کہنا مشکل ہو گیا کہ کون پہلے ہے اور کون پیچھے۔ہر ایک اپنے اپنے رنگ میں بے نظیر اور واجب التقلید تھا۔اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنے رحم وکرم کے بادل برسائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقامات دے اور ہمیں ان کی عملی زندگی کی توفیق۔جماعت کپورتھلہ کے مخلصین کے نام مکتوبات بہت کم ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عشق و محبت کے یہ پروانے ذرا فرصت پاتے تو قادیان پہنچ جاتے۔اور خط و کتابت کی نوبت ہی نہ آتی۔جہاں حضرت جاتے یہ ساتھ جاتے۔۳۲ نیز حضرت عرفانی صاحب رقم فرماتے ہیں: حضرت منشی ظفر احمد صاحب رضی اللہ عنہ میری تحقیقات میں کپورتھلہ کی جماعت کے آدم ہیں۔عین عنفوان شباب میں انہوں نے براہین احمدیہ کو پڑھا۔اور اس نور سے حصہ لیا اُن کا تاریخی نام انظار حسن تھا وہ ضلع مظفر نگر (یو۔پی) کے اصل باشندے تھے۔ایک شریف معزز اور عالم خاندان کے فرد تھے۔خاندان میں شرافت کے علاوہ دینداری کا ہمیشہ چر چا رہا۔اس لئے کہ یہ خاندان عرصہ دراز سے خاندان مغلیہ کے عہد میں مسلمان ہو چکا تھا۔اور اس عہد کی تاریخوں میں اس خاندان کے تذکرے آتے ہیں۔یہ قانون گو کہلاتے تھے۔قرآن کریم کے حفظ کرنے کا بھی بقیہ کی تعداد پانچ ہے۔۱۴ نومبر ۱۸۹۵ء والا مکتوب اخویم مظہر صاحب کے پاس موجود ہے۔مؤلف اصحاب احمد