اصحاب احمد (جلد 4) — Page 62
۶۲ اور ان کے ساتھی جو سمجھتے تھے کہ قلوب مومنین حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف مائل ہیں۔سرے سے خلافت کو اڑانے کے درپے ہو گئے اور حضرت ممدوح کی اس پیش کش کو بھی قبول نہ کیا کہ اتحاد کے قیام کے لئے ہم یہ مان لیتے ہیں کہ مولوی محمد علی صاحب کے ساتھی جن کو خلیفہ بنانا چاہیں میرے اقارب اور ساتھی ان کو خلیفہ قبول کر لیں گے۔لیکن خلافت کا بہر حال قیام ہو۔جماعت کپورتھلہ کے اخلاص میں بفضلہ تعالیٰ اس موقعہ پر بھی کسی قسم کا تزلزل واقع نہیں ہوا۔بیعت خلافت ثانیہ کے بعد ایک اعلان اشتہار کی صورت میں شائع کیا گیا جس میں تقریباً ایک صد چالیس بیعت کنندگان کے اسماء مختلف طبقات۔خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔عہدہ داران سرکاری معززین و تجار۔علماء۔گریجوایٹ۔پریذیڈنٹ۔سیکرٹری صاحبان اور ایڈیٹر صاحبان میں تقسیم کر کے درج کئے گئے بطور سیکرٹری جماعت کپورتھلہ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کا نام بھی درج ہے اس اعلان میں حضرت خلیفہ اول کی وفات۔خلافت ثانیہ کے قیام۔حضرت خلیفہ اول کی نماز جنازہ اور تدفین کا ذکر کر کے تلقین کی ہے کہ جو احباب اس موقعہ پر حاضر نہ ہو سکے ہوں۔وہ بہت جلد حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد سلمہ اللہ کے ہاتھ پر بیعت سے مشرف ہوں۔اس ”اعلان“ والے اشتہار کے دوسری طرف شرائط بیعت“ کے عنوان سے حضرت نواب محمد علی خاں صاحب اور حضرت مولوی شیر علی صاحب کی طرف سے بتاریخ ۲۱ مارچ ۱۹۱۴ء مرقوم ہے۔کہ جو لوگ خلافت ثانیہ کے دامن سے وابستہ نہیں ہوئے۔وہ طرح طرح کی غلط بیانیوں اور افتراؤں کے مرتکب ہو رہے ہیں، اور اس امر کی تردید کی ہے کہ بوقت بیعت کسی کو منافق بتایا جاتا ہے۔وغیرہ اور الفاظ بیعت درج کئے ہیں۔( مؤلف اصحاب احمد ) شوریٰ کا نظام اللہ تعالیٰ نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وشاور ھم فی الامر اور