اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 31 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 31

۳۱ پچھواتے یا خود گھر پر تشریف لاتے۔علاج معالجے کا انتظام کرتے ڈاکٹر کیلئے اپنی سواری کی گاڑی مقرر کر دیتے کہ وہ روز بروز علاج کے لئے جایا کرے۔موسم گرما کی تعطیلوں میں دیوان صاحب موصوف کشمیر، ڈلہوزی وغیرہ پہاڑ پر جاتے تو اکثر والد صاحب کو بھی ساتھ لے جاتے۔یہ ایک ایسا تعلق تھا۔جسے افسر وما تحت کا تعلق نہیں کہا جا سکتا۔بلکہ اسے باہمی تعاون کہنا زیادہ درست ہے۔دونوں ملازمت سے سبکدوش ہوئے تو بھی اس تعلق میں فرق نہ آیا۔والد صاحب دیوان صاحب موصوف کی زندگی میں ہی فوت ہو گئے۔اور انہوں نے مجھے لکھا کہ آج میں دنیا میں خود کو بے یار و مددگار محسوس کرتا ہوں۔کیونکہ تمام عمر کا رفیق مجھ سے بچھڑ گیا ہے۔کچہری کا کام والد صاحب اکثر گھر پر کرتے تھے اور مسلیں تمام تیار کر کے حکام کے پاس بھیج دیتے تھے کوئی دوسرا ر کن آپ کی بجائے پیشی میں بیٹھ جاتا اور آپ حسب دلخواه جس وقت چاہتے کچہری جاتے۔بعض دفعہ ایک دو بج جاتے۔کیونکہ اصل کام بڑی محنت اور دماغ سوزی سے بہت سا وقت صرف کر کے آپ گھر پر ہی طے کر لیتے تھے۔اس لحاظ سے ملا زمت میں بھی ایک قسم کی سہولت اور آزادی آپ کو حاصل رہی۔اپنے وجودوں میں اعجازی نشانات دیکھنا منشی ظفر احمد صاحب کہتے ہیں کہ بعض اوقات ہم آپ کے اعجازی نشانات کو ایک عجیب رنگ میں مشاہدہ کیا کرتے تھے جو خود ہمارے وجود اور معاملات سے وابستہ ہوتے تھے۔۔۔۔ہمارا ایمان تو ان نشانات کو دیکھ کر ہر روز بڑھتا تھا۔اسی قسم کے نشانات میں سے ایک اور بیان کرتا ہوں۔اور مجھے تو ہمیشہ حیرت ہوتی ہے کہ کبھی ہم عرض بھی نہیں کرتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و رحم کا ظہور حضور کی توجہ کے نتیجہ میں عجیب شان دکھاتا تھا۔ایک مرتبہ دھو ماں مل نے ہمارے دفتر کا معائنہ کیا اور میں غلطیاں نکال کر جواب طلب کیا۔میں نے جب جواب دیا تو وہ ان کی اور فرینچ صاحب ( جو اس وقت چیف منسٹر تھے ) کی ناراضگی کا