اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 215 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 215

۲۱۵ ہے۔اس میں بہت عمدہ نسخے ہیں آپ وہ لے لیں۔پھر مجھے اس بیاض کے لینے کا خیال نہ رہا۔گو حضور نے عنایت فرمانا چاہی تھی۔4۔ایک احمدی حاجی حسین نامی تھے۔وہ حج کر کے آئے اور سچے سیپ کی ایک تسبیح لائے اور لا کر تحصۂ حضور کی خدمت میں پیش کی۔اس وقت خاکسار اور سیالکوٹ کے ایک دوست حضور کی خدمت میں حاضر تھے۔ہمارے سامنے حاجی حسین صاحب نے تسبیح حضور کی خدمت میں پیش کی۔حضور نے جزاک اللہ فرمایا۔وہ تسبیح خوبصورت بہت تھی۔میں نے ارادہ کیا کہ اس کے جانے کے بعد میں یہ تسبیح لے لوں گا۔اور سیالکوٹ کے دوست جو تھے انہوں نے بھی یہ ارادہ کیا ہوا تھا۔جب حاجی حسین صاحب چلے گئے تو سیالکوٹ والے دوست نے عرض کیا۔کہ حضور یہ تسبیح بڑی خوشنما ہے۔آپ نے فرمایا اگر آپ کو پسند ہے تو آپ لے لیجئے اور تسبیح انہیں دے دی۔میں نے عرض کیا حضور ارادہ تو میرا بھی اسے لینے کا تھا۔آپ نے فرمایا آپ دونوں نصف نصف کر لیں۔بعد میں سیالکوٹ والے دوست مجھے کہنے لگے کہ تسبیح سو دانے کی ہوتی ہے۔میرے پاس ہی رہنے دیں۔میں نے کہا اچھا آپ ہی رکھ لیں۔ے۔میاں جی نظام الدین احمدی ساکن کپورتھلہ نہایت غریب آدمی تھے۔پیدل چل کر وہ قادیان گئے اور دو آنے حضور کو نذر کے طور پر پیش کئے۔حضور نے جزاکم اللہ کہہ کر دو آنے لے لئے۔چند دن بعد نظام الدین صاحب رخصت ہونے لگے۔حضور نے فرمایا۔ٹھہرو۔اندر - جا کر سات یا آٹھ روپے حضور لائے۔اور میاں جی نظام الدین کو عنایت فرمائے۔۸۔مرزا نظام الدین صاحب اور مرزا امام الدین صاحب باوجود یکہ سخت مخالف تھے مگر ضرورت کے وقت جب بھی انہوں نے سوال کیا تو حضور اسے پورا کر دیتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ میرے سامنے مرزا نظام