اصحاب احمد (جلد 4) — Page 214
۲۱۴ سامنے کیا۔گویا مجھے اپنے فعل سے جواب دے دیا۔ایڑی <mark>حضور</mark> کی جراب دریدہ میں سے نظر آتی تھی۔ہم۔ایک شخص کسی عورت پر عاشق تھا۔اور <mark>اس</mark> میں بے خود تھا۔اور گریہ زاری کرتا تھا۔اور تعویز وغیرہ لوگوں سے کراتا اور وظائف وغیرہ پر عمل کرتا تھا۔اور <mark>اس</mark> عشق میں دیوانہ سا تھا۔اور اشعار عاشقانہ پڑھا کرتا تھا۔چنانچہ ایک شعر <mark>اس</mark> کا اب یاد ہے۔شوخ تیرے نظر گذشت مارا جگر نشست مارا غرض <mark>اس</mark> حالت میں وہ قادیان آیا اور <mark>حضور</mark> سے اپنا حال بیان کیا۔<mark>حضور</mark> نے فرمایا کہ ہمارے پ<mark>اس</mark> رہو۔<mark>اس</mark> کے کچھ عرصہ بعد میں قادیان گیا۔تو وہ کہنے لگا کہ میرا عشق کم ہوتا جا رہا ہے۔پھر رفتہ رفتہ وہ حضرت صاحب کی بیعت میں شامل ہو گیا۔اور <mark>حضور</mark> کا نہایت مخلص عاشق ہو گیا۔لگے۔۵۔ایک <mark>دوست</mark> نے بہت محنت کوشش اور صرف کثیر کر کے کسی شخص سے ایک کشتہ کا نسخہ حاصل کیا اور کشتہ بنا کر <mark>حضور</mark> کی <mark>خدمت</mark> میں <mark>پیش</mark> کیا اور نسخہ بھی دیا۔ایک اور <mark>دوست</mark> نے مجھے کہا کہ وہ نسخہ حاصل کیا جائے۔مگر وہ <mark>دوست</mark> کسی کو بتاتے نہ تھے۔میں حضرت صاحب کی <mark>خدمت</mark> میں گیا اور عرض کیا کہ فلاں <mark>دوست</mark> نے کوئی کشتہ <mark>حضور</mark> کو دیا ہے۔فرمانے وہ شیشی پڑی ہے لے لو۔میں نے عرض کیا <mark>اس</mark> کا نسخہ ؟ <mark>حضور</mark> نے فرمایا وہ بھی پڑا ہے۔چنانچہ وہ کشتہ معہ نسخہ کے میں لے آیا۔اور <mark>اس</mark> <mark>دوست</mark> کو دکھایا کہ دیکھو تم نہیں بتاتے تھے میں لے آیا ہوں یہ ہے۔وہ <mark>حضور</mark> کی <mark>خدمت</mark> میں جا کر عرض کرنے لگا۔کہ <mark>حضور</mark> نے وہ دے دیا ہے۔فرمانے لگے۔وہ ہم سے لے گئے۔اور پھر <mark>حضور</mark> نے مجھے یہ بھی فرمایا کہ مرزا صاحب ( یعنی <mark>حضور</mark> کے والد صاحب مرحوم ) کی بیاض ہمارے پ<mark>اس</mark>