اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 180 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 180

۱۸۰ نے دیکھا تو ہاتھ بالکل صاف تھے۔اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کوئی پھنسی بالکل نکلی ہی نہیں۔۵۸ ے۔ایک دفعہ جلسہ سالانہ پر بہت سے آدمی آئے تھے جن کے پاس کوئی پارچہ سرمائی نہ تھا۔ایک شخص نبی بخش نمبر دار ساکن بٹالہ نے اندر سے لحاف بچھونے منگوانے شروع کئے اور مہمانوں کو دیتا رہا۔عشاء کے بعد حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ بغلوں میں ہاتھ دیئے بیٹھے تھے۔اور ایک صاحبزادہ جو غالباً حضرت خلیفہ اسیح الثانی تھے پاس لیٹے تھے۔اور ایک شتری چوغہ انہیں اوڑھا رکھا تھا۔معلوم ہوا کہ آپ نے بھی اپنا لحاف بچھونا طلب کرنے پر مہمانوں کے لئے بھیج دیا۔میں نے عرض کی کہ حضور کے پاس کوئی پارچہ نہیں رہا۔اور سردی بہت ہے۔فرمانے لگے کہ مہمانوں کو تکلیف نہیں ہونی چاہئے۔اور ہمارا کیا ہے رات گذر جائے گی۔نیچے آکر میں نے نبی بخش نمبر دار کو بہت برا بھلا کہا کہ تم حضرت صاحب کا لحاف بچھونا بھی لے آئے۔وہ شرمندہ ہوا۔اور کہنے لگا کہ جس کو دے چکا ہوں اس سے کس طرح واپس لوں۔پھر میں مفتی فضل الرحمن صاحب یا کسی اور سے ٹھیک یاد نہیں رہا۔لحاف بچھونا مانگ کر اوپر لے گیا۔آپ نے فرما یا کسی اور مہمان کو دے دو۔مجھے تو اکثر نیند بھی نہیں آیا کرتی۔اور میرے اصرار پر بھی آپ نے نہ لیا۔اور فرمایا کسی مہمان کو دے دو۔پھر میں لے آیا۔ےے۔چوہدری رستم علی خاں صاحب مرحوم انسپکٹر ریلوے تھے اور ۱۵۰ روپے ماہوار تنخواہ پاتے تھے۔بڑے مخلص اور ہماری جماعت میں قابل ذکر آدمی تھے۔وہ بیس روپے ماہوار اپنے پاس رکھ کر باقی کل تنخواہ حضرت صاحب کو بھیج دیتے تھے۔ہمیشہ ان کا یہ قاعدہ تھا۔ان کا محض ایک لڑکا تھا۔وہ بیمار ہوا تو وہ اسے قادیان لے آئے معہ اپنی اہلیہ کے۔حضرت صاحب کے مکان پر قیام پذیر ہوئے۔اور حضرت اقدس نے