اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 181 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 181

۱۸۱ ایک دن فرمایا کہ رات کو میں نے رویا دیکھا کہ میرے خدا کو کوئی گالیاں دیتا ہے۔مجھے اس کا بڑا صدمہ ہوا۔جب آپ نے رویا کا ذکر فرمایا۔تو اس سے اگلے روز چوہدری صاحب کا لڑکا فوت ہو گیا۔کیونکہ ایک ہی لڑکا تھا۔اس کی والدہ نے بہت جزع فزع کی۔اور اس حالت میں اس کے منہ سے نکلا۔ارے ظالم تو نے مجھ پر بڑا ظلم کیا۔ایسے الفاظ وہ کہتی رہی جو حضرت صاحب نے سن لئے۔اسی وقت آپ باہر تشریف لے آئے۔اور آپ کو بڑا رنج معلوم ہوتا تھا۔اور بڑے جوش سے آپ نے فرمایا۔کہ اسی وقت وہ مردار عورت میرے گھر سے نکل جائے ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کی والدہ جو بڑی دانشمند اور فہمیدہ تھیں۔انہوں نے چوہدری صاحب کی بیوی کو سمجھایا۔اور کہا کہ حضرت صاحب سخت ناراض ہیں۔اس نے توبہ کی اور معافی مانگی اور کہا کہ اب میں رونے کی بھی نہیں۔میر صاحب کی والدہ نے حضرت صاحب سے آکر ذکر کیا کہ اب معافی دیں وہ تو بہ کرتی ہے اور اس نے رونا بھی بند کر دیا ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ اچھا اسے رہنے دو اور تجہیز و تکفین کا انتظام کرو۔۵۹ ۷۸۔صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کا جب انتقال ہوا ہے۔تو آپ باہر تشریف لائے میں موجود تھا۔فرمایا کہ لڑکے کی حالت نازک تھی۔اس کی والدہ نے مجھ سے کہا کہ آپ ذرا اس کے پاس بیٹھ جائیں۔میں نے نماز نہیں پڑھی۔میں نماز پڑھ لوں۔فرمایا کہ وہ نماز میں مشغول تھیں کہ لڑکے کا انتقال ہو گیا۔میں ان خیالات میں پڑ گیا کہ جب اس کی والدہ لڑکے کے فوت ہونے کی خبر سنے گی تو بڑا صدمہ ہوگا۔چنانچہ انہوں نے سلام پھیرتے ہی مجھ سے پوچھا کہ لڑکے کا کیا حال ہے۔میں نے کہا لڑکا تو فوت ہو گیا۔انہوں نے بڑے انشراح صدر سے کہا کہ الحمد للہ میں تیری رضا پر راضی ہوں۔ان کے ایسا کہنے سے میرا غم خوشی سے بدل گیا۔اور میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تیری اولاد پر