اصحاب احمد (جلد 4) — Page 11
۱۱ آپ کی بجائے ایک اور شخص اپیل نویسی کا کام کرتا تھا۔جو آمدنی کا کچھ حصہ لے لیتا تھا۔والد صاحب فرماتے تھے کہ یہ طریق میرے لئے بہت مفید رہا۔کیونکہ مجھے ملا زمت والی پابندی نہ تھی اور میں حسب دلخواہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو جاتا اور اپنے اوقات کا بہت سا حصہ حضور کے قدموں میں گزارتا۔کچھ عرصہ بعد واپس آتا اپنے ساتھی سے آمدنی وصول کرتا اور پھر قادیان چلا جاتا۔حکام میری قدردانی اور عزت کرتے تھے۔اس لئے اس قسم کی آمد و رفت میں کوئی تعرض نہ کرتے تھے۔بلکہ اس خیال سے کہ آپ اپنے مُرشد کے عاشق ہیں زیادہ رعایت برتتے تھے۔ان دنوں میں حضرت صاحب کی مقبولیت اور آپ کی خدا پرستی کا مسلم اور غیر مسلم میں یکساں شہرہ تھا اور لوگ اہل اللہ کے بارے میں بہت محتاط تھے۔عشق و محبت کی مجالس اور رحماء بینھم کا نقشہ حضرت منشی اروڑا صاحب مرحوم اسی عدالت میں نقشہ نویس تھے اور حضرت محمد خان صاحب مرحوم کا دفتر بھی پاس ہی تھا۔محمد خان صاحب مرحوم ریاست کے ایک بڑے کارخانہ یعنی سرکاری اصطبل کے انچارج تھے اور تین چار سو آدمی ان کے ماتحت تھے۔سینکڑوں گاڑیاں اور گھوڑے تھے۔اور ان کے ملازم اس اصطبل کے متوسلین میں سے تھے۔کچہری سے فارغ ہوکر والد صاحب اور منشی اروڑا صاحب محمد خاں صاحب کے دفتر میں چلے جاتے دوسرے احمدی احباب اپنے کاموں اور ملازمتوں سے فارغ ہو کر یہیں جمع ہو جاتے اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر ہوتا یا آپ کی کوئی کتاب پڑھی جاتی۔یا در شین کی نظمیں خوش الحانی سے پڑھتے۔عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں یہیں ادا ہوتیں۔اور بہت رات گئے احباب اپنے گھروں کو جاتے۔غرضیکہ یہ تمام لوگ عشق و محبت کے بندے تھے اور آپس میں بے نظیر ہمدردی اور محبت رکھتے تھے۔اگر کسی دن کوئی شخص محفل میں شریک نہ ہوتا تو اس کے گھر پر جا کر خبر پرسی ہوتی۔رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ کا نقشہ خدا کے فرستادوں سے محبت کا نتیجہ ہوتا ہے۔