اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 153 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 153

۱۵۳ چھپوانے کے لئے اس نے بھیجی ہے۔مگر عیسائیوں نے اجازت نہیں دی کہ اس کو چھاپا جائے۔میرے پاس اما بنا رکھی ہوئی ہے۔عیسائی مذکور نے چند شرائط پر وہ تحریر دینے کا اقرار کیا کہ اس کی نوکری جاتی رہے گی اس کا انتظام اگر ہم کریں۔پانچ سو روپیہ دیں اور اس کی دولڑکیوں کی شادی کا بندو بست کریں۔شمس الدین صاحب نے اس کا انتظام کیا۔اور پھر ہم تینوں اس کے ہاں گئے تو معلوم ہوا کہ یہ راز افشا ہو گیا ہے اور اسے عیسائیوں نے کو ہاٹ یا کسی اور جگہ تبدیل کر دیا ہے۔۳۱۔ایک دفعہ میں اپنے وطن بڑھا نہ ضلع مظفر نگر جارہا تھا تو انبالہ ٹیشن پر ایک بڑا پادری فیروز پور سے آ رہا تھا۔جب کہ آٹھم فیروز پور میں تھا۔پادری مذکور کے استقبال کے لیے انبالہ سٹیشن پر بہت سے پادری موجود تھے۔وہ جب اترا تو پادریوں نے انگریزی میں اس سے آتھم کا حال پوچھا۔اس نے کہا وہ تو بے ایمان ہو گیا۔نمازیں بھی پڑھتا ہے۔بابو محمد بخش صاحب ہیڈ کلرک جو احمدی تھے اور میرے ملنے کے لئے سٹیشن پر آئے ہوئے تھے۔کیونکہ میں نے انہیں اطلاع دے دی تھی انہوں نے مجھے بتایا کہ یہ انہوں نے پوچھا۔اور یہ اس نے جواب دیا ہے۔میں نے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں واقعہ تحریر آتھم والا اور انبالہ سٹیشن والا عرض کیا۔آپ نے ہنس کر فرمایا کہ گواہ تو سب احمدی ہیں۔حضور کا مطلب یہ تھا کہ غیر کب اس شہادت کو مانیں گے۔سوال را قم : شمس الدین صاحب تو احمدی نہ تھے؟ جواب والد صاحب : - دراصل حضور نے اس امر کو قابل توجہ نہیں سمجھا اور درخور اعتناء خیال نہ فرمایا۔۳۲۔مباحثہ آتھم میں فریقین کی تقاریر جو قلم بند ہوتی تھیں۔دونوں فریق کے کاتبان تحریر آپس میں ان کا مقابلہ کر لیتے تھے۔کبھی ان کے کا تب آجاتے کبھی میں جاتا۔ایک دفعہ میں مقابلہ مضمون کرانے کے لئے