اصحاب احمد (جلد 4) — Page 136
۱۳۶ کرو۔یہ غالبًا ۴۲ - ۱۹۴۱ بکرمی کا واقعہ ہے۔ے۔میں نے کپورتھلہ آکر اپنے دوستوں منشی اروڑا صاحب اور محمد خان صاحب سے اِيَّاكَ نَعْبُدُ والی بات اور حضور کی تعریف کی۔اس ملاقات سے دو ڈیڑھ ماہ بعد میں قادیان گیا۔حضور بہت محبت سے پیش آئے۔خود اندر سے کھانا لا کر کھلاتے۔میں دس بارہ دن قادیان رہا۔اس وقت حافظ حامد علی خادم ہوتا تھا۔اور کوئی نہ ہوتا۔جہاں اب مہمان ا خانہ اور مفتی صاحب کا مکان ہے اس کے پاس بڑی چوڑی کچھی فصیل ہوتی تھی۔۔اس کے بعد میں قادیان جاتا رہا۔بہت دفعہ ایسا ہوتا رہا ہے کہ جمعہ کی نماز میں پڑھاتا رہا اور حضرت صاحب اور حافظ حامد علی صرف مقتدی ہوتے۔میں نے کہا مجھے خطبہ پڑھنا تو آتا نہیں حضور نے فرمایا۔کوئی رکوع پڑھ کر اور بیٹھ کر پھر درود شریف پڑھ دو۔ان دنوں الہی بخش اکونٹنٹ ، عبدالحق اکونٹنٹ اور حافظ محمد یوسف صاحب سب اور سیئر تینوں مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کے مرید تھے یہ بہت آیا کرتے تھے۔اکثر موقعہ ایسا ہوا ہے کہ میں قادیان گیا ہوں تو یہ بھی وہاں ہوتے۔و۔ایک دن حافظ محمد یوسف اور محمد یعقوب برادرش نے عبداللہ صاحب غزنوی کا ایک کشف بیان کیا تھا کہ قادیان سے ایک روشنی نمودار ہوگی۔وہ سارے جہان میں پھیلے گی۔مگر میری اولا د اس سے محروم رہے گی۔اور ان تینوں میں سے کسی نے یہ بھی کہا کہ مرزا غلام احمد صاحب سے ممکن ہے یہ مراد ہو۔مہدویت کے دعوئی کے بعد اس واقعہ سے محمد یوسف صاحب انکاری ہو گئے تو حضرت صاحب نے مجھے حلفیہ شہادت کے لئے خط لکھا کہ تمہارے سامنے محمد یوسف نے یہ واقعہ بیان کیا تھا۔میں نے محمد یوسف