اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 118 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 118

۱۱۸ اور عمر اور عثمان اور علی اور دوسرے صحابہ کی طرح ہر قسم کی قربانیاں کرنے والے تھے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر قسم کے مصائب برداشت کرنے کے لئے تیار رہتے تھے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو ہی دیکھ لو۔ان کو خدا نے چونکہ خود جماعت میں ایک مقام بخش دیا ہے۔اس لئے میں نے ان کا نام نہیں لیا۔ور نہ ان کی قربانیوں کے واقعات بھی حیرت انگیز ہیں۔آپ جب قادیان میں آئے تو اس وقت بھیرہ میں آپ کی پریکٹس جاری تھی۔مطب کھلا تھا اور کام بڑے وسیع پیمانہ پر جاری تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جب آپ نے واپس جانے کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا کیا جانا ہے آپ اسی جگہ رہیں۔پھر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ خود اسباب لینے کے لئے بھی نہیں گئے۔بلکہ کسی دوسرے آدمی کو بھیج کر بھیرہ سے اسباب منگوایا۔یہی وہ قربانیاں ہیں جو جماعتوں کو خدا تعالیٰ کے حضور ممتاز کیا کرتی ہیں۔اور یہی وہ مقام ہے جس کے حاصل کرنے کی ہر شخص کو جد و جہد کرنی چاہیئے۔خالی فلسفیانہ ایمان انسان کے کسی کام نہیں آسکتا۔انسان کے کام آنے والا وہی ایمان ہے جس میں عشق اور محبت کی چاشنی ہو۔فلسفی اپنی محبت کے کتنے ہی دعوے کرے۔ایک دلیل بازی سے زیادہ ان کی وقعت نہیں ہوتی۔کیونکہ اس نے صداقت کو دل کی آنکھ سے نہیں بلکہ محض عقل کی آنکھ سے دیکھا ہوتا ہے۔مگر وہ جو عقل کی آنکھ سے نہیں بلکہ دل کی نگاہ سے خدا تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی صداقت اور شعائر اللہ کو پہچان لیتا ہے اسے کوئی شخص دھوکا نہیں دے سکتا۔اس لئے کہ دماغ کی طرف سے فلسفہ کا ہاتھ اٹھتا ہے اور دل کی طرف سے عشق کا ہاتھ اٹھتا ہے۔اور عشق کا بندھن ہی وہ چیز ہے جسے کوئی تو ڑ نہیں سکتا۔فلسفہ سے تم صرف قیاس کرتے ہو اور کہتے ہو کہ فلاں چیز ہے۔مگر عشق سے تم اس چیز کو اپنی آنکھ سے دیکھ لیتے ہو اور مشاہدہ اور رؤیت کے مقام کو حاصل