اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 111 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 111

تک مجھے یاد ہے انہوں نے اپنی جیب سے دو یا تین پونڈ نکالے اور مجھے کہا کہ یہ اماں جان کو دے دیں۔اور یہ کہتے ہی ان پر ایسی رقت طاری ہوئی کہ وہ چیچنیں مار کر رونے لگ گئے اور ان کے رونے کی حالت اس قسم کی تھی کہ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے بکرے کو ذبح کیا جا رہا ہے۔میں کچھ حیران سا ہو گیا کہ یہ روکیوں رہے ہیں۔مگر میں خاموش کھڑا رہا۔اور انتظار کرتا رہا کہ وہ خاموش ہوں تو ان سے رونے کی وجہ دریافت کروں۔اسی طرح وہ کئی منٹ روتے رہے۔منشی اروڑے خاں صاحب مرحوم نے بہت ہی معمولی ملازمت سے ترقی کی تھی۔پہلے کچہری میں وہ چپڑاسی کا کام کرتے تھے۔پھر اہلمد کا عہدہ آپ کو مل گیا اس کے بعد نقشہ نویس ہو گئے۔پھر اور ترقی کی تو سرشتہ دار ہو گئے اس کے بعد ترقی پاکر نائب تحصیلدار ہو گئے۔اور پھر تحصیلدار بن کر ریٹائر ہوئے۔ابتداء میں ان کی تنخواہ دس پندرہ روپے سے زیادہ نہیں ہوتی تھی۔جب ان کو ذرا صبر آیا تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ روئے کیوں ہیں وہ کہنے لگے میں غریب آدمی تھا۔مگر جب بھی مجھے چھٹی ملتی۔پھر قادیان آنے کے لئے چل پڑتا تھا۔سفر کا بہت سا حصہ میں پیدل ہی طے کرتا تھا۔تا کہ سلسلہ کی خدمت کے لئے کچھ پیسے بچ جائیں۔مگر پھر بھی روپیہ ڈیڑھ روپیہ خرچ ہو جاتا۔یہاں آکر جب میں امراء کو دیکھتا کہ وہ سلسلہ کی خدمت کے لئے بڑا روپیہ خرچ کر رہے ہیں تو میرے دل میں خیال آتا کہ کاش میرے پاس بھی روپیہ ہو اور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بجائے چاندی کا تحفہ لانے کے سونے کا تحفہ پیش کروں۔آخر میری تنخواہ کچھ زیادہ ہوگئی (اس وقت ان کی تنخواہ شاید میں چھپیں روپیہ تک پہنچ گئی تھی اور میں نے ہر مہینے کچھ رقم جمع کرنی شروع کر دی۔اور میں نے اپنے دل میں یہ نیت کی کہ جب یہ رقم اس مقدار تک پہنچ جائے گی جو میں چاہتا ہوں تو میں اسے پونڈوں کی صورت میں تبدیل کر کے حضرت