اصحاب احمد (جلد 4) — Page 108
۱۰۸ گیا۔اور جب حضرت جنید بغدادی کو لوگ دفن کرنے لگے تو اس وقت بھی وہ اسی جگہ تھا۔جب لوگ حضرت جنید بغدادی کو دفن کر چکے تو اس نے آپ کی قبر پر کھڑے ہو کر یہ چار شعر کہے۔وا اسفا على فراق قوم هم المصابيح و الحصون و المدن و المزن و الرواسي و الخير و الامن و السكون تتغير توفهم 3 لنا الليالي المنون قلوب فكل جمر و كل ماء عيون اس کے معنے یہ ہیں کہ والسفا على فراق قوم هم المصابيح والحصون ہائے افسوس ان لوگوں کی جدائی پر جو دنیا کے لئے سورج کا کام دے رہے تھے۔اور جو دنیا کے لئے قلعوں کا رنگ رکھتے تھے۔لوگ ان سے نور حاصل کرتے تھے اور انہی کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے عذابوں اور مصیبتوں سے دنیا کو نجات ملتی تھی۔وو والمدن والمزن والرواسي و الخير والامن والسكون وہ شہر تھے جن سے تمام دنیا آباد تھی۔وہ بادل تھے جو سوکھی ہوئی کھیتیوں کو ہرا کر دیتے تھے وہ پہاڑ تھے جن سے دنیا کا استحکام تھا۔اسی طرح وہ تمام بھلائیوں کے جامع تھے اور دنیا ان سے امن اور سکون حاصل کر رہی تھی۔