اصحاب احمد (جلد 4) — Page 100
خطبہ جمعہ سید نا حضرت خلیلہ اسیح الثانی اید والله (فرموده ۲۲۔اگست ۱۹۴۱ء) سیدنا حضرت خلیفہ السیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے۲۲۔اگست ۱۹۴۱ء کو جمعہ کے خطبہ میں سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اس ہفتے جماعت کو ایک نہایت ہی درد پہنچانے والد اور تکلیف میں مبتلا کرنے والا واقعہ پیش آیا ہے یعنی منشی ظفر احمد صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ابتدائی صحابہ میں سے ایک تھے وہ اس ہفتہ میں فوت ہو گئے ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ میں اس وقت ڈلہوزی میں تھا جب ان کی نعش یہاں لائی گئی۔اور میں اس جنازہ میں جو ان کی لاش پر پڑھا گیا شامل نہیں ہو سکا۔مجھے ایسے وقت میں اطلاع ہوئی جب کہ میں کل صبح ہی آسکتا تھا۔پہلے تو میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ تار دوں کہ جنازہ کو اس وقت تک روک لیا جائے جب تک میں نہ پہنچ جاؤں لیکن گرمی کی وجہ سے اور اس خیال سے کہ کہیں اس عرصہ تک روکنے سے نعش کو نقصان نہ پہنچے۔میں نے تار دینا مناسب نہ سمجھا۔اور اس بات کو مقامی لوگوں پر چھوڑ دیا کہ اگر نعش رہ سکتی ہے تو میرا انتظار کریں گے۔کیونکہ انہیں علم ہے کہ میں آنے والا ہوں۔اور اگر مناسب نہ ہوا تو وہ انتظار نہیں کریں گے۔چنانچہ جب میں یہاں پہنچا۔تو مجھے معلوم ہوا کہ پرسوں رات ہی انہیں دفن کیا جا چکا ہے۔سو میں جمعہ کے