اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 84 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 84

۸۴ میں لدھیانہ میں تھے اور ازالہ اوہام چھپ رہا تھا۔غرض میں یہ بیان کر رہا تھا کہ حضرت منشی صاحب کی طبیعت میں زندہ دلی اور شگفتگی تھی۔66 ” مولوی محمد چراغ “ اور ” مولوی محمد معین الدین 66 ان کی شگفتہ مزاجی کا ایک اور واقعہ بیان کئے بغیر میں آگے نہیں جاتا۔فرمایا: ایک مرتبہ ایک مولوی تحقیق حق کے خیال سے قادیان آیا۔چھوٹے سے قد کا تھا۔بارہ نمبردار اس کے ساتھ تھے۔وہ بحث نہ کرتا۔بلکہ خود اپنے نقطہ نظر سے حالات دیکھتا تھا۔میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قریب رہتا تھا۔رات کو وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ایک بات پوچھتا ہوں اگر آپ سچ سچ بتا دیں۔اعتقاد کا خیال نہ کریں۔عربی زبان میں حضرت جو کتابیں لکھ رہیں ہیں ان کی تصنیف میں مدد دینے کے لئے کچھ لوگ ہوں گئے۔جو رات کو مدد دیتے ہوں گے۔میں نے کہا ہاں دو آدمی ہیں جو آپ کو مدد دیتے ہیں۔ایک کا نام مولوی محمد معین الدین اور دوسرے کا نام مولوی محمد چراغ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے میں اس قدر قریب تھا کہ میری آواز وہاں تک بخوبی پہنچتی تھی۔حضرت نے جب یہ سنا تو بے اختیار ہنس پڑے۔میں نے سمجھا کہ بات آئی گئی ہو گئی۔دوسرے دن جب عصر کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مسجد میں تشریف فرما ہوئے تو فرمایا۔منشی جی ان علماء کو دکھا بھی تو دو۔میں نے دونوں کو بلا کر سامنے کر دیا۔اور اس سے ایک بڑا لطف مجلس میں پیدا ہو گیا۔وہ ایک بڑا خوان شیرینی کا لایا۔اور عرض کیا کہ میری تسلی ہو گئی۔میری بیعت قبول فرمائی جائے۔حضرت نے اس کی اور اس کے ہمراہیوں کی بیعت لے لی۔اور ہنس کر فرمایا یہ سینی شیرینی کی منشی جی کو دو کہ وہ ہدایت کا موجب ہوئے ہیں نئے لوگ شائد اس سے لطف نہ اٹھا سکیں۔کیونکہ بہت تھوڑے ہوں گے جنہوں نے ان علما کو