اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 26 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 26

۲۶ سارے حالات سنے اور کہا میری سمجھ میں یہ مرض نہیں آیا۔کل غور کر کے بتاؤں گا۔دوسرے دن منشی صاحب اس کے پاس گئے تو اس نے کہا میں مرض کی تشخیص نہیں کر سکا نسخہ کیا تجویز کروں۔البتہ رات مجھے خواب آیا ہے کہ ایک کتاب ہے جس کے اندر یہ لکھا ہے کہ اس مرض کا علاج سوائے املی کے اور کچھ نہیں۔منشی صاحب اس خواب کو الہی اشارہ یقین کر کے لوٹ آئے۔فرماتے تھے کہ میں نے مختار کو ہدایت کر دی کہ کھاؤ بھی املی اور پیو بھی املی۔ایک ہفتہ ایسا ہی کیا گیا۔مرض کا نام ونشان نہ رہا، تا آنکہ مختار احمد صاحب نے تعلیم کو دوبارہ جاری کیا۔اور ایم۔اے ایل ٹی کی ڈگریاں حاصل کیں۔کچھ عرصہ ملازمت کے بعد اب وہ لکھنو میں کامیابی سے ایک دوا خانہ چلا رہے ہیں۔یہ واقعہ منشی صاحب مرحوم نے کئی دفعہ مجھ سے اور دوسرے احباب کے پاس بیان کیا۔مهمان نوازی اور ذکر حبیب میں انہماک والد صاحب بیان کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مہمانوں کی انتہائی خاطر داری فرمایا کرتے تھے اور حضور کی عادت شریفہ تھی کہ مہمانوں کے لئے عمدہ کھانا تیار کرواتے۔اور اگر کوئی باورچی اچھا پکانے والا مل جاتا تو دوستوں کے لئے فرمائشی کھانا اس سے پکواتے۔حضور کا نمونہ خدام کے لئے ایک اسوہ تھا۔عیدین کے موقعہ پر دیہات سے عید پڑھنے کے لئے ہمیں تمہیں احمدی دوست کپورتھلہ آتے۔آپ ان سب کے لئے کھانے کا انتظام پہلے سے کرا چھوڑتے تا عید کے معاً بعد ان کو اپنے گاؤں واپس نہ جانا پڑے۔اور عید پر آنا ان کے ئے صعوبت کا موجب نہ بن جائے۔حاجی فضل محمد صاحب حال در ولیش قادیان آپ سے بہت محبت رکھتے تھے۔پانچ چھ میل کے فاصلہ پر اپنے گاؤں سے جمعہ پڑھنے آتے تو والد صاحب انہیں ایک دو دن اپنے پاس ضرور ٹھہرا لیتے اور ہمیشہ یہ معمول رہا۔ہمارے ہاں کثرت سے مہمان آتے تھے۔خصوصاً احمدی احباب دور ونزدیک سے ملاقات کے لئے یا سلسلہ کے کاموں کے لئے قادیان سے آتے تھے۔بالعموم یہ سب دوست والد صاحب کے مہمان ہوتے تھے۔اور مہمان کی آمد پر بہت خوش ہونا۔فوراً گھر سے باہر