اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 22 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 22

۲۲ سے کوئی چیز مانگ لیتے تھے اور لحاظ کے طور پر منشی صاحب دے دیتے تھے۔یہ ایک بہت ہی نا قابل ذکر شے ہوتی تھی۔اور کئی سالوں میں بھی پانچ سات روپے سے زیادہ قیمت نہ رکھتی ہوگی۔لیکن منشی صاحب نے محسوس کیا کہ انہیں ایسا کرنے کا دراصل حق نہیں تھا۔پس آپ نے کپورتھلہ کے وزیر اعظم کو لکھا کہ میں نے اس طریق پر بعض دفعہ سٹیشنری صرف کی ہے آپ صدر ریاست ہونے کی وجہ سے مجھے معاف کر دیں تا کہ میں خدا تعالیٰ کے روبرو جواب دہی سے بچ جاؤں۔ظاہر ہے کہ صدر ریاست نے اس سے درگذر کیا۔دوئم : منشی صاحب بوڑھے ہو گئے۔روز نامچہ لکھنے کی عادت تھی۔آپ نے یہ دیکھنا چاہا کہ میرے ذمہ کسی کا قرضہ تو نہیں ہے۔روزنامچے کی پڑتال کرتے ہوئے کوئی چالیس سال قبل کا ایک واقعہ درج تھا۔یعنی منشی صاحب نے ایک غیر احمدی سے مل کر معمولی سی تجارت کی تھی۔اس کے نفع میں سے بروئے حساب ۴۰ روپے کے قریب منشی صاحب کے ذمہ نکلتے تھے۔آپ نے یہ رقم حقدار کے نام بذریعہ منی آرڈر بھجوادی۔تا رسید بھی حاصل ہو جائے۔وہ شخص کپورتھلہ کا رہنے والا تھا اور عجب خاں اس کا نام تھا۔منی آرڈر وصول ہونے کے بعد وہ اپنی مسجد میں گیا اور لوگوں سے کہا کہ تم احمدیوں کو برا تو کہتے ہو لیکن یہ نمونہ بھی تو کہیں دکھاؤ چالیس سال کا واقعہ ہے اور خود مجھے بھی یاد نہیں کہ میری کوئی رقم منشی صاحب کے ذمہ نکلتی ہے۔غرض منشی صاحب کا یہ عمل مصداق ہے۔حاسبوا قبل ان تحاسبوا کا۔منشی صاحب صوم وصلوۃ اور تہجد کے ہمیشہ پابند تھے۔بڑھاپے میں بھی یہی معمول رہا۔پنجوقتہ نماز با جماعت مسجد میں پڑھتے تھے اور ہم نے انہیں کبھی کوئی ناغہ نماز با جماعت میں کرتے نہیں دیکھا۔یاد خدا ان کے چہرے سے عیاں تھی۔سادگی اور خاکساری ان کا طبعی وصف تھا۔منشی صاحب نے ایک رسالہ بھی تصنیف کیا اور اسے شائع کیا۔یہ ایک مقامی عالم شخص کے اعتراضات کے جواب میں تھا۔رسالے کا نام تھا ”عبد الرحمن بجواب مسیح قادیان معترض کی خوب خوب قلعی کھولی گئی تھی۔اور بڑی عجیب چٹکیاں اور گدگدیاں لی گئی تھیں۔آخر منشی صاحب ہجرت کر کے قادیان چلے گئے اور سو سال کی عمر میں وفات پائی۔مقبرہ بہشتی میں