اصحاب احمد (جلد 4) — Page 18
۱۸ دوست کو سنائی۔اس دوست نے والد صاحب کے پاس شکایت کے رنگ میں بات پہنچائی کہ اس لڑکے کو شعر کہنے سے باز رکھا جائے۔اس وقت والد صاحب نے مجھے کچھ نہیں کہا۔لیکن کچھ عرصہ کے بعد چلتے چلتے ایک دن متبسم ہو کر میرے چہرے پر نظر ڈالی اور فرمایا۔ستم شعر کہا کرتے ہو؟ میں نے شرم سے آنکھیں نیچی کر لیں۔پھر خود ہی فرمانے لگے کہ ہم تو اسے یعنی شعر گوئی کو لغو کام سمجھ کر چھوڑ چکے ہیں۔تمہیں اگر شوق ہو تو سلسلہ احمدیہ کی خدمت کے لئے شعر کہہ لیا کرو۔یہ بات میرے دل میں گھر کر گئی اور میں نے جب بعد میں اردو اور فارسی میں شعر کہنے شروع کئے تو والد صاحب کی یہ نصیحت ہر شعر کہتے ہوئے میرے سامنے شحنہ راہ اور مشعل ہدایت تھی۔میں مشاعروں میں بھی شریک ہوا اور طرحی اور غیر طرحی نظمیں لکھیں۔لیکن مروجہ رنگ تغزل سے بفضل خدا ہمیشہ مجتنب رہا اور سلسلہ حقہ کی تائید میں لکھنے کی تو فیق اس نصیحت کی بدولت ملی۔الحمد علی احسانه ایک دفعہ کرتار پور میں مولوی ثناء اللہ کے ساتھ مناظرہ تھا۔والد صاحب ایک طرف سے صدر محفل تھے۔مولوی ثناء اللہ خود کو شیر پنجاب کہنے کے عادی تھے اور ان کے اس تفاخر کو توڑنے کے لئے والد صاحب نے فی البدیہہ کہا مقابلے میں جو روبرو ہو نہیں ہے تاب جدال تم کو بزعم خود تم ہو شیر بنتے سمجھتے ہیں ہم شغال تم کو حضرت منشی عبدالرحمن صاحب کی بیعت جیسا کہ اوپر ذکر ہوا منشی عبدالرحمن صاحب والد صاحب کے ابتدائی ساتھیوں میں سے تھے۔ان کا شمار ۳۱۳ میں ہے۔نہایت عبادت گزار ولی اللہ تھے۔جب لدھیانہ میں حضرت صاحب نے بیعت لینے کا اعلان فرمایا تو والد صاحب نے منشی عبد الرحمن صاحب - لدھیانہ چلنے کو کہا۔منشی صاحب نے فرمایا کہ میں استخارہ کرلوں۔والد صاحب نے کہا لوتم استخارہ کرو ہم تو جاتے ہیں۔منشی اروڑا صاحب۔محمد خاں صاحب اور والد صاحب یکے بعد دیگرے لدھیانہ کو روانہ ہو گئے۔پہلے منشی اروڑا صاحب نے بیعت کی۔بعد میں والد صاحب