اصحاب احمد (جلد 4) — Page 219
جلدی مضمون۔۲۱۹ ۱۷۔حضور میں یہ ایک خاص بات ہم نے دیکھی کہ اگر معترض کے پاس اعتراض کے لئے کافی الفاظ نہ ہوتے تھے تو حضور اس کو اظہار مدعا میں مدد دیتے تھے۔حتی کہ معترض سمجھتا کہ اب جواب نہیں ہو سکے گا۔پھر حضور جب جواب دیتے تو سماں بندھ جاتا۔( نوٹ ) ( از جانب عاجز محمد احمد کا تب روایات ) ۶ اگست ۱۹۴۱ء کو عاجز نے مندرجہ بالا روایات لکھیں اور اس روایت کے بعد کہ حضور میں یہ ایک خاص بات ہم نے دیکھی، عرض کیا کہ کچھ اور لکھوائیں۔والد صاحب نے نہایت دردمندانہ الفاظ میں آبدیدہ ہو کر فرمایا: محمد احمد ! ہمیں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسی خاص الخاص خدمات کا موقع ملا ہے کہ ہم تو وہ باتیں اب بیان بھی نہیں کر سکتے، روایات کے متعلق آپ کے یہ آخری الفاظ تھے جو بعد میں مضمون کو ختم کرنے والے ثابت ہوئے۔کیونکہ اس کے بعد روایات لکھنے کا عاجز کو موقعہ نہیں ملا اور ۱۳ اگست ۱۹۴۱ء کو آپ بیمار ہو گئے۔۱۹ اگست ۱۹۴۱ء کو بہت کمزور ہو چکے تھے۔اس حالت میں میں نے دریافت کیا کہ آپ ایک روایت بیان فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ سردی کے موسم میں گورداسپور کے مقام پر حضور نے اپنے لحاف میں اپنے ساتھ مجھے سلالیا۔وہ روایت لکھوا دیں۔فرمایا۔اس وقت بیان نہیں کرسکتا۔“ اس وقت اتنے کمزور تھے کہ آپ کے منہ کے پاس کان لگا کر میں نے یہ الفاظ سنے۔پھر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا عیادت کا خط آپ کو سنایا اور آپ نے جواب میں وعلیکم السلام کہا۔اس سے ذرا پیشتر یہ دریافت فرمایا۔اور حضرت صاحب کہاں ہیں، میں نے عرض کیا۔حضور تو ڈلہوزی میں ہیں۔۲۰ اگست ۱۹۴۱ء کو صبح ساڑھے چھ بجے آپ اپنے محبوب حقیقی سے جاملے۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ