اصحاب احمد (جلد 4) — Page 220
۲۲۰ پس آخری روایت یہ تھی کہ محمد احمد ہمیں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسی خاص الخاص خدمات کا موقعہ ملا ہے کہ ہم تو وہ باتیں اب بیان بھی نہیں کر سکتے “ ۱۷ اگست ۱۹۴۱ء کو فرمایا: اس بات کا تو ذرا بھی ڈر نہیں کہ موت آئی۔میرا جہاز خدا کے فضل سے بھرا ہوا ہے۔۱۹ اگست ۱۹۴۱ء کو فرمایا: حضرت صاحب کہاں ہیں ؟ اور پھر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے عیادت نامہ اور السلام علیکم کے جواب میں وعلیکم السلام فرمایا۔اس کے بعد آپ نے کوئی لفظ نہیں فرمایا۔’وصال سے ڈیڑھ سال پیشتر آپ کو رویا کے ذریعہ سے معلوم ہو گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور میں آپ کو بلایا گیا ہے۔چنانچہ آپ کو یقین تھا کہ اب آپ کے وصال کا وقت قریب ہے اور بعض دوستوں سے اس رویا کے بعد اس امر کا اظہار اور آخری ملاقات آپ نے کی۔۴۱۔۸۔۲۰ کو والد صاحب اپنے محبوب حقیقی سے جاملے۔اِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ علاوہ مندرجہ بالا روایات کے چند روایات آپ کی بیان کردہ مجھے یاد ہیں۔جو اپنی یادداشت سے حتی الوسع والد صاحب کے لفظوں میں درج ذیل کرتا ہوں : ۱۔فرمایا ! حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے حدیث میں جو لفظ خاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلے ہیں وہ دوسرے الفاظ سے جو راوی کے اپنے ہوں مجھے اس طرح نمایاں نظر آتے ہیں جیسے پتھر میں لعل اور ہیرا جڑا ہوا۔۲۔فرمایا: حضور ایک دفعہ بہت بیمار ہوئے۔حضور کے ہاتھ پاؤں سرد پڑ گئے۔اور بظاہر حال آخری وقت معلوم ہوتا تھا۔مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم موجود تھے۔اور زار زار رو ر ہے تھے۔اتنے میں حضور نے آنکھیں