اصحاب احمد (جلد 4) — Page 187
۱۸۷ حضرت صاحب کے پاس کھڑا ہوکر پوچھنے لگا۔میں کتھے کھڑا ہوواں ( میں کہاں کھڑا ہوں ) پھر کہنے لگالے نہیں بولدا تے اسی خواج فجر، یعنی کنویں پر کھڑے ہو جانے آں ( یعنی آپ نہیں بولتے تو میں خواجہ خضر یعنی کنویں پر کھڑا ہو جاتا ہوں۔) ۸۶۔ایک دفعہ ہم گرمیوں کے موسم میں گول کمرے کے سامنے سوتے تھے۔رات کے دو بجے کے قریب میراں بخش نے اذان دینی شروع کردی اور کہنے لگا اٹھو تسی ایتھے سون واسطے آیا کردے اوی ( یعنی جاگو کیا تم لوگ یہاں سونے کے لئے آیا کرتے ہو ) پھر گا تا ہوا چلا گیا۔۸۷۔لدھیانہ کا واقعہ ہے کہ ایک شخص جو بظاہر فائر العقل معلوم ہوتا تھا۔حضرت صاحب کے پاس خاکی وردی اور بوٹ پہنے آیا اور سر پر کلاہ اور پگڑی تھی۔وہ آکر حضرت صاحب کے سامنے جھک گیا۔سرزمین سے لگا دیا۔حضور نے اس کی کمر پر تھپکیاں دیں اور وہ اٹھ کر ہنستا ہوا چلا گیا۔مولوی عبد الکریم صاحب نے دریافت بھی کیا۔مگر حضور مسکراتے رہے اور کچھ نہ بتایا۔۸۸۔دہلی سے حضور نے ایک خط بھیجا۔لفافہ پر محمد خاں صاحب ہمنشی اروڑا صاحب اور خاکسار تینوں کا نام تھا۔خط میں یہ لکھا ہوا تھا کہ یہاں کے لوگ اینٹ پتھر بہت پھینکتے ہیں اور علانیہ گالیاں دیتے رہتے ہیں۔میں بعض دوستوں کو اس ثواب میں شامل کرنا چاہتا ہوں۔اس لئے تینوں صاحب فوراً آجائیں۔ہم تینوں کچہری سے اٹھ کر چلے گئے۔گھر میں بھی نہیں آئے۔کرتا پور جب پہنچے تو محمد خاں صاحب اور منشی اروڑا صاحب نے مجھے ٹکٹ لانے کو کہا۔میرے پاس کچھ نہیں تھا۔اور نہ مجھے یہ خیال ہوا کہ اپنے کرایہ کے لئے بھی کچھ ان سے لے لوں۔انہوں نے اپنے ٹکٹوں کا کرایہ مجھے دیا تھا۔میں نے ان دونوں کے ٹکٹ لے لئے۔اور گاڑی