اصحاب احمد (جلد 4) — Page 182
۱۸۲ بڑے بڑے فضل کرے گا۔باہر جب آپ تشریف لائے ہیں تو اس وقت آپ کا چہرہ بشاش تھا۔کئی دفعہ میں نے حضرت صاحب کو دیکھا ہے کہ کسی کی بیماری کی حالت میں بہت گھبراتے تھے اور مریض کو گھڑی گھڑی دیکھتے اور دوا ئیں بدلتے رہتے تھے۔مگر جب وہ مریض فوت ہو جاتا تو پھر گویا حضور کو خبر بھی نہیں ہوتی تھی چنانچہ میاں مبارک احمد صاحب کی بیماری میں بہت گھبراہٹ حضور کو تھی اور گھڑی گھڑی باہر آتے۔پھر دوا دیتے لیکن اس کی وفات پر حضرت ام المومنین کے حد درجہ صبر کا ذکر کر کے حضور بڑی دیر تک تقریر فرماتے رہے کہ قرآن شریف میں ہے کہ ان الله مع الصابرين جب صابروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی معیت ہے تو اس سے زیادہ اور کیا چاہیئے۔لڑکے کا فوت ہونا اور حضور کا تقریر کرنا ایک عجیب رنگ رکھتا تھا۔’وے منشی گوہر علی صاحب کپورتھلہ میں ڈاک خانہ میں ملازم تھے۔ڈھائی روپے ان کی پنشن ہوئی۔گزارہ ان کا بہت تنگ تھا۔وہ جالندھر اپنے مسکن پر چلے گئے۔انہوں نے مجھے خط لکھا کہ جب تم قادیان جاؤ تو مجھے ساتھ لیتے جانا۔وہ بڑے مخلص آدمی تھے۔چنانچہ میں جب قادیان جانے لگا تو ان کو ساتھ لینے کے لئے جالندھر چلا گیا۔وہ بہت متواضع آدمی تھے۔میرے لیے انہوں نے پر تکلف کھانا پکوایا۔اور مجھے یہ پتہ لگا کہ انہوں نے کوئی برتن بیچ کر دعوت کا سامان کیا ہے۔میں نے رات کو خواب میں دیکھا کہ ہم حج کو جاتے ہیں۔اور جہاز راستے سے اتر گیا اگلے دن گاڑی میں سوار ہو کر جب ہم دونوں چلے ہیں۔تو مانانوالہ سٹیشن پر گاڑی کا پہیہ پٹڑی سے اتر گیا۔گاڑی اسی وقت کھڑی ہوگئی۔دیر تک پہیہ سٹرک پر چڑھایا گیا۔کئی گھنٹے لگے۔پھر ہم قادیان پہنچ گئے۔میں نے منشی علی گوہر کا ٹکٹ خود ہی خرید لیا تھا۔وہ اپنا کرایہ دینے پر اصرار کرنے لگے۔میں نے کہا یہ آپ حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کر دیں۔