اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 178 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 178

12A جب حضور سیر کو تشریف لے گئے تو وہی پرانا جو تا گٹھا ہوا پہنے ہوئے تھے۔میں نے عرض کیا کہ حضور نے تو پھر وہی پرانا جوتا پہن لیا۔آپ نے فرمایا مجھے اس میں آرام معلوم ہوتا ہے اور اس کو پیر سے موافقت ہوگئی ہے۔۷۲۔میں ایک دفعہ بوٹ پہنے حضور کیساتھ تھا۔میرا بوٹ ذرا تنگ تھا۔اس لئے میں تکلیف سے چلتا تھا۔کیونکہ حضور بہت تیز چلتے تھے۔آر نے مجھے دیکھ کر اپنے پرانے جوتے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ہم تو ایسا پہنتے ہیں۔یعنی آپ کیوں تکلیف اٹھاتے ہیں۔۷۔ایک دفعہ لدھیانہ میں ہیضہ بہت پھیلا ہوا تھا۔اور منادی ہو رہی تھی۔چراغ خادم نے آکر کہا کہ پوریاں اور حلوا خوب کھایا جائے۔اس سے ہیضہ نہیں ہوگا۔اس نے زنانے میں آکر یہ ذکر کیا تھا دراصل اس نے مذاق کیا تھا۔حضرت صاحب پانچ چھ روپے لے کر باہر تشریف لائے اور مولوی عبدالکریم صاحب سے فرمایا کہ دوستوں کو کھلایا جائے کیونکہ چراغ کہتا ہے کہ ایسی منادی ہو رہی ہے۔مولوی عبدالکریم صاحب نے عرض کی کہ چراغ شریر ہے یہ چیز تو ہیضے کے لئے مضر ہے۔چراغ نے تو ویسے ہی کہہ دیا ہے۔آپ نے فرمایا کہ ہم نے تو یہ سمجھا تھا کہ اسے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی۔شاید کوئی نئی تحقیق ہوئی ہو۔آپ پھر گھر میں تشریف لے گئے میں نے بعد میں چراغ کو ڈانٹا کہ تم نے یہ کیا بات کی تھی۔اس : الحکم مورخہ ۷ اپریل ۳۴ء میں حضرت منشی صاحب کی روایت میں یہ بھی ذکر ہے کہ:۔ایک دن باہر نکلے تو میں نے بازار سے نیا جوتا حضور کے لئے خرید کر لیا اور عرض کی کہ حضور اس جوتے کو پہن لیں اور بہ پرانا پھٹا ہوا جوتا اتار دیں آپ نے وہ جوتا لے لیا اور لے کر چلتے رہے۔میں نے پھر عرض کیا کہ نیا پہن لیں۔فرمایا۔ہاں گھر چل کر پہن لیں گے۔میں نے کہا کہ حضورا سے اتار کر یہاں ہی پھینک دیں مگر آپ نے پھر فرمایا کہ ہاں گھر چل کر پہن لیں گے۔اب میں خاموش تو ہو گیا۔اور میں نے وہ نیا جوتا مانگا کہ میں لئے چلتا ہوں۔میرے اصرار پر دے دیا۔مگر دوسرے دن کیا دیکھتا ہوں کہ پھر وہی پرانا جوتا پہنے ہوئے ہیں۔