اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 177 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 177

122 میں ڈاک سنایا کرتا تھا ایک خط پر لکھا ہوا تھا کہ کوئی دوسرا نہ کھولے۔باقی خطوط تو میں نے سنائے۔لیکن وہ خط حضور کے پیش کر دیا۔آپ نے فرمایا 'کھول کرسنائیں دوسرے کے لئے ممانعت ہے۔ہم اور آپ کوئی دو ہیں، جو میں نے وہ خط پڑھ کر سنا دیا۔نویسندہ نے اپنے گناہوں کا ذکر کر کے دعا کی درخواست کی تھی اور بڑی عاجزی اور انکساری سے خط لکھا تھا۔اس کی تحریر سے معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ ایک آگ میں پڑا ہوا ہے اور حضور اسے جلدی ہی کھینچ کر نکا لیں۔آپ نے فرمایا خط مجھے دے دیں۔میں خود اس کا جواب لکھوں گا۔جس طرح واشگاف حال اس نے لکھا ہے مجھے اس کی خوشی ہوئی ایسے لوگ کم دیکھے گئے ہیں۔ے۔حضرت ام المومنین نے مجھے ارشاد فرمایا کہ میرے لئے ایک سبک اور عمدہ دیسی جو تا بنوا کر لائیں میں پیر کا ماپ بھی لایا اور پھگواڑہ کے ایک معروف موچی سے جو تا بنوا کر لے گیا۔حضرت ام المومنین کے پیر میں وہ ڈھیلا آیا۔حضور اندر سے خود پہن کر باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ ان کے پیر میں تو ڈھیلا ہے۔مگر ہم پہنا کریں گے۔میں نے دوبارہ پھر اور جو تا بنوا کر بھی بھیجا۔۵۶ ے۔ایک دفعہ لدھیانہ میں آپ سیر کو تشریف لے جارہے تھے۔پیر میں جو جو تا تھا اس کو پیوند لگے ہوئے تھے اور بد زیب معلوم ہوتا تھا۔میں آپ کی ہمراہی سے ہٹ کر ایک دوکان پر گیا۔اور آپ کے پیر کا بہت سبک جوتا خرید کر لے آیا۔آپ مجھے سیر سے واپسی پر ملے۔میں جوتا لئے ساتھ چلا آیا اور مکان پر پیش کیا کہ حضور وہ جو تا تو برا لگتا ہے۔آپ نے جزاکم اللہ فرما کر نیا جو تا رکھ لیا۔اور پہن کر بھی دیکھا تو بہت ٹھیک تھا۔اگلے دن یہ روایت سناتے وقت ہمیشہ چشم پر آب ہو جاتے اور کہتے کہ کہاں خدا کا پیارا مسیح اور کہاں یہ عاجز گنہگار۔مگر حضور کی نوازش کو دیکھو۔محمد احمد