اصحاب احمد (جلد 4) — Page 176
فرمایا مولوی عبد الرحیم صاحب کو کتاب دے دو۔ان کو بھی وہ حدیث نہ ملی۔پھر آپ نے فرمایا منشی صاحب کو یعنی خاکسار کو دے دو۔میں نے کھول کر دو تین ورق ہی الٹے تھے کہ وہ حدیث نکل آئی۔اور میں نے حضور کی خدمت میں پیش کر دی کہ حدیث تو یہ موجود ہے آپ اسے پڑھتے رہے اور مولوی محمد احسن صاحب حیران ہو کر مجھے کہنے لگے کہ آپ فقیہہ ہیں۔میں نے کہا میری فقاہت اس میں کیا ہے یہ حضور کا تصرف ہے۔مجھے تو اچھی طرح عربی بھی نہیں آتی۔۶۵۔بعض دفعہ آپ سیر کو تشریف لے جاتے تو کنویں سے پانی کا ڈول نکلوا کر ڈول کو منہ لگا کر ہی پی لیتے اور لوگ منتظر رہتے کہ آپ کا چھوڑا ہوا پانی پئیں۔مگر حضور عموماً وہ ڈول مجھے عطا فرماتے۔بعض دفعہ کسی اور کو بھی دے دیتے۔۶۶۔ایک شخص محمد سعید صاحب عرب تھے اور داڑھی منڈوایا کرتے تھے۔جب وہ قادیان میں زیادہ عرصہ رہے تو لوگوں نے انہیں داڑھی رکھنے کے لئے مجبور کیا۔آخر انہوں نے داڑھی رکھ لی۔ایک دفعہ میرے سامنے عرب صاحب نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ حضور میری داڑھی دیکھیں ٹھیک ہے آپ نے فرمایا اچھی ہے اور پہلے کیسی تھی۔گویا آپ کو یہ خیال ہی نہ تھا کہ پہلے یہ داڑھی منڈوایا کرتے تھے۔۶۷۔اس وقت ایک شخص نے عرض کی کہ حضور داڑھی کتنی لمبی رکھنی چاہیئے۔فرمایا میں داڑھیوں کی اصلاح کے لئے نہیں آیا۔سب چپ ہو گئے۔۶۸۔حضرت صاحب مسجد مبارک میں ایک دن ریا پر تقریر فرمارہے تھے کہ ریا شرک ہے۔تھوڑی سی دیر میں ایک دوست نے پوچھا کہ حضور کو بھی کبھی ایسا خیال آیا ہے۔فرمایا کہ ریا ہم جنس سے ہوا کرتی ہے۔۶۹۔جب میں قادیان میں ہوتا تو حضور کی ڈاک میرے سپرد ہوتی۔