اصحاب احمد (جلد 4) — Page 169
۱۶۹ چلا آیا۔۵۴ ۵۵۔ایک دفعہ حضور لیٹے تھے اور سید فضل شاہ صاحب مرحوم حضور کے پیرداب رہے تھے۔حضرت صاحب کسی قدر سو گئے۔فضل شاہ صاحب نے اشارہ کر کے مجھے کہا کہ یہاں پر جیب میں کچھ سخت چیز پڑی ہے۔میں نے ہاتھ ڈال کر نکال لی۔تو حضور کی آنکھ کھل گئی۔آدھی ٹوٹے ہوئے گھڑے کی ایک چینی تھی۔اور دو ایک ٹھیکرے۔میں پھینکنے لگا۔تو حضور نے فرمایا۔یہ میاں محمود نے کھیلتے کھیلتے میری جیب میں ڈال دیئے۔آپ پھینکیں نہیں میری جیب میں ہی ڈال دیں کیونکہ انہوں نے ہمیں امین سمجھ کر اپنے کھیلنے کی چیز رکھی ہے۔وہ مانگیں گے تو ہم کہاں سے دیں گے۔پھر وہ جیب میں ہی ڈال لئے۔یہ واقعہ اگر چہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کے سوانح میں لکھا ہے مگر میرے سامنے کا یہ واقعہ ہے۔۵۶۔ایک دفعہ جاڑے کا موسم تھا اور مولوی عبداللہ صاحب سنوری حضور کے پیر داب رہے تھے۔حضور کو غنودگی کا عالم طاری ہو گیا۔اور میں نے دیکھا کہ حضور کی پیشانی پر پسینہ آیا۔میں اس وقت آپ سے لپٹ گیا۔آپ کی آنکھ کھل گئی تو مسکرانے لگے میں نے کہا حضور اس موسم میں پیشانی پر پسینہ دیکھ کر میں نے خیال کیا کہ اس وقت آپ خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہو رہے ہیں۔آپ نے فرمایا۔مجھے اس وقت ایک ہیبت ناک الہام ہوا۔اور یہ عادت ہے کہ جب ایسا الہام ہو تو پسینہ آجاتا ہے وہ الہام بھی حضور نے مجھے بتایا تھا۔مگر اب مجھے وہ یاد نہیں رہا۔۵۷۔میں اور محمد خاں صاحب مرحوم قادیان گئے۔حضرت ام المومنین بہت سخت بیمار تھیں۔مسجد مبارک کے زینے کے قریب والی کوٹھڑی میں مولوی عبدالکریم صاحب کے پاس ہم تین چار آدمی بیٹھے تھے۔حضور تشریف لائے اور فرمایا تار برقی کی طرح إِنَّ كَيدَ كُنَّ عَظِيمٍ إِنَّ كَيدَ كُنَّ عَظِیم ، گھڑی گھڑی الہام ہوتا ہے۔اور میرے ساتھ اللہ