اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 170 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 170

12 • تعالیٰ کی یہ عادت ہے کہ جب کوئی بات جلد وقوع میں آنے والی ہوتی ہے۔تو اس کا بار بار تکرار ہوتا ہے۔تھوڑی دیر بیٹھ کر جب آپ تشریف لے گئے اور پھر واپس آئے اور فرمایا کہ وہی سلسلہ پھر جاری ہو گیا۔اِنَّ كَيدَ كُنَّ عَظِيمٍ إِنَّ كَيدَ كُنَّ عَظِیم۔ان دنوں میر ناصر نواب صاحب کا کنبہ پٹیالہ میں تھا۔اگلے دن پٹیالہ سے خط آیا کہ اسحاق کا انتقال ہو گیا ہے۔اور دوسرے بیمار پڑے ہیں۔اور والدہ صاحبہ بھی قریب الموت ہیں۔یہ خط حضرت ام المومنین کی خدمت میں تھا کہ صورت دیکھنی ہو تو جلد آ جاؤ۔حضور وہ خط لے کر ہمارے پاس تشریف لائے۔فرمانے لگے کہ یہ ایسا خط آیا ہے اور حضرت ام المومنین کے متعلق فرمایا کہ وہ سخت بیمار ہیں۔اگر ان کو دکھایا جائے تو ان کو سخت صدمہ ہوگا اور نہ دکھا ئیں تو یہ بھی ٹھیک نہیں۔ہم نے مشورہ دیا کہ حضور انہیں خط نہ دکھا ئیں نہ کوئی ذکر ان سے کریں۔کسی کو وہاں بھیجیں۔چنانچہ حافظ حامد علی صاحب مرحوم کو اسی وقت روانہ کر دیا گیا۔اور انہوں نے جا کر خط لکھا کہ سب سے پہلے مجھے اسحاق ملا۔اور گھر جا کر معلوم ہوا کہ سب خیریت سے ہیں۔حافظ حامد علی صاحب پھر واپس آگئے اور سارا حال بیان کیا۔اس وقت معلوم ہوا کہ إِنَّ كَيدَ كُنَّ عَظِیم کا یہ مطلب تھا۔یہ واقعہ شائع شدہ ہے۔مگر میرے سامنے کا ہے۔۵۸۔ایک شخص شملہ میں رہتا تھا۔اور اس کی بہن احمدی تھی۔وہ شخص بڑا عیاش تھا۔اس کی بہن حاملہ تھی اور حالات سے وہ سمجھتی تھی کہ اس دفعہ میں ایام حمل میں بچنے کی نہیں۔کیونکہ اسے تکلیف بہت تھی۔اس نے اپنے بھائی کو مجبور کیا کہ اسے قادیان پہنچا دے۔چنانچہ وہ اسے قادیان لے آیا۔کچھ دنوں کے بعد جب بچہ پیدا ہونے لگا تو پیروں کی طرف سے تھوڑا سا نکل کر اندر ہی مر گیا۔یہ حالت دیکھ کر حضرت ام المومنین روتی ہوئی حضرت صاحب کے پاس آئیں۔اور فرمایا عورت مرنے والی ہے