اصحاب احمد (جلد 4) — Page 163
۱۶۳ دین نے ہر ایک گواہ کیلئے لمبی چوڑی جرح تیار کی ہوئی تھی۔خصوصاً پرانے خدام کے لئے بہت لمبی جرح اس نے تیار کی ہوئی تھی۔چنانچہ مجھ پر اس نے حسب ذیل سوالات کئے : س: قادیان میں کتنے پریس ہیں؟ ج: میں کیا جانوں کتنے پریس ہیں۔س: مرزا صاحب کی کس قدر تصانیف ہیں؟ ج اسی (۸۰) کے قریب ہوں گی۔س: کتابوں کے کیا کیا نام ہیں؟ ج : مجھے یاد نہیں میں کوئی کتب فروش نہیں ہوں۔س کس قدر سنگ ساز ہیں اور ان کے کیا کیا نام ہیں؟ ج: ایک شخص کرم علی کو میں جانتا ہوں۔اور پتہ نہیں۔س کا تب کس قدر ہیں اور ان کے کیا کیا نام ہیں؟ ج : مجھے علم نہیں۔س : آپ قادیان میں کتنی دفعہ آئے ہیں؟ ج : سینکڑوں دفعہ۔س : تعداد بتائیں؟ ج: میں نے گنتی نہیں کی۔اسی طرح چند اور سوال کئے جن کے جواب میں میں لاعلمی ظاہر کرتا رہا۔آخر مجسٹریٹ نے اسے اس قسم کے سوالات کرنے سے روک دیا۔اور میں کمرہ عدالت سے باہر چلا آیا۔جس پر اس نے عدالت سے کہا کہ یہ دیگر گواہوں کو باہر جا کر بتادے گا۔مگر حاکم نے اس کی یہ بات نہ مانی که گواه معزز آدمی ہے اور میں باہر چلا گیا۔اسی درمیان میں مجسٹریٹ نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ آپ مرزا صاحب کے مرید ہیں۔میں نے کہا ہاں۔پھر اس نے پوچھا کہ آپ جان ومال