اصحاب احمد (جلد 4) — Page 159
۱۵۹ حضور نے اس کی دعوت قبول فرمائی اور اس کے ہاں جا کر سب نے کھانا کھایا۔اور تھوڑی دیر آرام کر کے حضور قادیان واپس تشریف لے آئے۔ہمراہیان کے نام جہاں تک یاد ہیں۔یہ ہیں۔مرزا اسمعیل شیر فروش۔حافظ حامد علی صاحب، علی بخش حجام ، جس نے عطاری کی دوکان کی ہوئی تھی۔اور بھی چند آدمی تھے۔۴۱۔ایک دفعہ بٹالہ کے بعض عیسائیوں نے حضرت صاحب کے حضور یہ بات پیش کی کہ ہم ایک لفافے میں مضمون لکھ کر میز پر رکھ دیتے ہیں آپ اسے دیکھے بغیر اس کا مضمون بتا دیں۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ ہم یہ بتا دیں گے۔آپ وہ مضمون لکھ کر رکھیں۔اس پر انہوں نے یہ جرات نہ کی۔اس قدر واقعہ میرا چشم دید نہیں۔البتہ اس واقعہ کے بعد حضرت صاحب نے ایک اشتہار شائع فرمایا تھا جو حنائی کاغذ پر تھا۔وہ اشتہار میں نے پڑھا تھا۔جس میں یہ واقعہ درج تھا۔اور حضور نے یہ شرط پیش کی تھی۔کہ اگر ہم لفافے کا مضمون بتادیں تو مسلمان ہونا ہوگا۔یہ واقعہ ابتدائی ایام کا اور بیعت اولیٰ سے پہلے کا ہے۔۴۲۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضور مغرب کے بعد مسجد مبارک کی دوسری چھت پر معہ چند احباب کھانا کھانے کے لئے تشریف فرما تھے۔ایک احمدی میاں نظام الدین ساکن لدھیانہ جو بہت غریب آدمی تھے اور ان کے کپڑے بھی دریدہ تھے۔حضور سے ۵٫۴ آدمیوں کے فاصلہ پر بیٹھے تھے۔اتنے میں کئی دیگر اشخاص خصوصاً وہ لوگ جو بعد میں لاہوری کہلائے آتے گئے اور حضور کے قریب بیٹھتے گئے۔جس کی وجہ سے میاں نظام الدین کو پرے ہٹنا پڑتا رہا۔حتی کہ وہ جوتیوں کی جگہ تک پہنچ گیا۔اتنے میں کھانا آیا۔تو حضور نے ایک سالن کا پیالہ اور کچھ روٹیاں ہاتھ میں اٹھا لیں اور میاں نظام الدین کو مخاطب کر کے فرمایا آؤ میاں نظام الدین صاحب ہم اور آپ اندر بیٹھ کر کھانا کھائیں۔اور یہ فرما کر مسجد کے صحن