اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 138 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 138

۱۳۸ وو ا۔حضور سے جالندھر کی ملاقات اول کے بعد دوماہ کے قریب گزرنے پر میں قادیان گیا۔اس کے بعد مہینے ڈیڑھ مہینے بعد اکثر جایا کرتا تھا۔ایک دفعہ چار ماہ بعد گیا تو حضور نے فرمایا کیا کوئی معصیت ہو گئی ہے جو اتنی دیر لگائی۔میں رونے لگا۔اس کے بعد میں جلدی جلدی قادیان جایا کرتا تھا۔۱۱۔بعدش سرمہ چشم آریہ طبع ہوئی۔تو حضور نے چار نسخے مجھے اور چار منشی چراغ محمد صاحب کو کپورتھلہ بھیجے۔چراغ محمد صاحب دینا نگر ( گورداسپور ) کے رہنے والے تھے۔محمد خاں صاحب۔منشی اروڑا صاحب۔منشی عبدالرحمن صاحب اور خاکسار سرمہ چشم آریہ مسجد میں پڑھا کرتے تھے۔پھر محمد خاں صاحب، منشی اروڑا صاحب اور میں قادیان گئے۔منشی اروڑا صاحب نے کہا کہ بزرگوں کے پاس خالی ہاتھ نہیں جایا کرتے۔چنانچہ تین چار روپے کی مٹھائی ہم نے پیش کی۔حضور نے فرمایا یہ تکلفات ہیں۔آپ ہمارے مہمان ہیں ہمیں آپ کی تواضع کرنی چاہیئے۔پھر ہم تینوں نے بیعت کے لئے کہا۔کیونکہ سرمہ چشم آریہ پڑھ کر ہم تینوں بیعت کا ارادہ کر کے گئے تھے۔آپنے فرمایا مجھے بیعت کا حکم نہیں۔لیکن ہم سے ملتے رہا کرو۔پھر ہم تینوں بہت دفعہ قادیان گئے۔اور لدھیانہ بھی کئی دفعہ حضور کے پاس گئے۔۱۲۔بیعت اولی سے پیشتر میں نے سرسید احمد صاحب کی کتابیں پڑھی تھیں اور میں اور محمد خان صاحب وفات عیسی کے قائل تھے۔چنانچہ میں نے مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کو خط لکھا کہ حیات عیسی علیہ السلام کہاں سے ثابت ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ جس طرح خضر علیہ السلام کی حیات ضعیف احادیث سے ثابت ہے اور ضعیف احادیث کا مجموعه اقسام حدیث میں سے حدیث حسن کو پہنچتا ہے۔میں نے جواب دیا که موضوع احادیث کا مجموعہ ضعیف ہوا۔اور ضعیف احادیث کا مجموعہ