اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 124 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 124

۱۲۴ وو شيوه او استقامت حسن ظن حُسنِ ادب این عبارت بنگری هم نیز در اخبار دوست بهره ور از عشق صادق باخدا و با رسول ایں معافی ہم رقم زد کلک گوہر بار دوست راحتِ غم لذت آزار کم یابد کے خاصگاں یا بند این انعام از سرکارِ دوست آتش شوق آنچنان در سینه اش بالا گرفت دمبدم سیراب شد از فیض دریا بار دوست یم به یم بارد چو ساقی خم به کم باید زدن درخور ہمت بباید ساغر میخوار دوست ہمت عالی بخواهد ظرف عالی را ہے مجو به فضل حق تعالیٰ کس نگردد یار دوست داغہائے عشق احمد تازه باید داشتن اے غلامانِ اولی العزم و اولی الابصار دوست لحظه لحظه بود کارش یاد یار مهربان لمحہ لمحه گفتگویش نیز از گفتار دوست بقیہ حاشیہ : سال تک سلسلہ کو ترقی پاتے دیکھا۔ذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُوتِيهِ مَنْ يَّشَآءُ ازالہ اوہام طبع اول صفحہ ۸۰۰ کی حسب ذیل عبارت کا ملخص ان تین اشعار میں منظوم ہوا ہے۔یہ جوان صالح کم گو اور خلوص سے بھرا دقیق فہم آدمی ہے۔استقامت کے آثار وانوار اس میں ظاہر ہیں۔وفاداری کی علامات وامارات اس میں پیدا ہیں۔ثابت شدہ صداقتوں کو خوب سمجھتا ہو۔اور ان سے لذت اٹھاتا ہے۔اللہ اور رسول سے سچی محبت رکھتا ہے۔اور ادب جس پر تمام مدار حصول فیض کا ہے۔اور حسن ظن جو اس راہ کا مرکب ہے دونوں سیرتیں ان میں پائی جاتی ہیں۔“ جزاهم الله خير الجزاء