اصحاب احمد (جلد 4) — Page 6
۶ شکل و شمائل یه قد چھوٹا۔چہرہ با وقار اور بہت خوبصورت۔آنکھیں بڑی بڑی اور بہت روشن پیشانی بہت اونچی جس سے ذہانت اور دقیق انجمی عیاں تھی۔داڑھی چھوٹی چھوٹی اور خوشنما جسم سڈول اور مضبوط۔آواز بہت شیر ہیں۔قرآن شریف بہت خوش الحانی سے پڑھتے تھے۔چہرہ ہر وقت شگفتہ اور متبسم رہتا تھا کہ گویا ایک لازوال خزانہ ہاتھ آ گیا ہے۔اور دنیا و مافیہا سے بے نیازی حاصل ہوگئی ہے چہرے کی یہ شکفتگی ضعیف العمری۔بیماری اور مرتے دم تک اسی طرح قائم رہی۔رفتار میں تیزی۔کلام میں سلاست اور روانی۔زبان بہت پاکیزہ بولتے تھے۔مثلاً یہ نہیں کہتے تھے کہ پس خوردہ بلکہ یہ کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے کا کھانا کھایا‘ محاورات میں ادب کا خاص خیال رکھتے تھے اور رکیک الفاظ سے اجتناب۔بات کر تے تو دل میں اتر جاتی۔سخن کز دل برون آید نشیند لاجرم بردل دادا جان کی قبول احمدیت اور ان کی دعا کی برکت مندرجہ بالا شجرہ نسب میں مشتاق احمد عرف محمد ابراہیم ہمارے دادا کا نام ہے۔جو بہت ہی عبادت گزار اور در و دو وظائف پڑھنے والے بزرگ تھے۔والد صاحب کے بیعت کر لینے کے بعد دادا صاحب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت سے مشرف ہوئے۔لیکن تھوڑے عرصہ کے بعد ہی دادا صاحب کا انتقال ہو گیا۔یہ معلوم نہیں کہ ان کو بعد بیعت حضور کی زیارت کا شرف حاصل ہوا یا نہیں۔دادا صاحب کی آخری بیماری میں والد صاحب نے جو کپورتھلہ میں ان کے پاس تھے ان کی بہت خدمت اور تیمار داری کی۔والد صاحب کے تین اور بھائی تھے جو تینوں حافظ قرآن تھے۔والد صاحب خود حافظ تو نہ تھے۔لیکن قرآن شریف خوب یاد تھا۔اور حافظے کی مدد سے ہر مضمون کی آیت پڑھ دیتے تھے۔