اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 121 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 121

۱۲۱ صاحب تھے۔یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہزاروں نشانوں کا چلتا پھرتا ریکارڈ تھے۔نہ معلوم لوگوں نے کس حد تک ان ریکارڈوں کو محفوظ کیا ہے۔مگر بہر حال خدا تعالیٰ کے ہزاروں نشانات کے وہ چشم دید گواہ تھے ان ہزاروں نشانات کے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ اور آپ کی زبان اور آپ کے کان اور آپ کے پاؤں وغیرہ کے ذریعہ ظاہر ہوئے۔تم صرف وہ نشانات پڑھتے ہو جو الہامات پورے ہو کر نشان قرار پائے۔مگر ان نشانوں سے ہزاروں گنے زیادہ وہ نشانات ہوتے ہیں۔جو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی زبان۔ناک، کان ، ہاتھ ، اور پاؤں پر جاری کرتا ہے اور ساتھ رہنے والے سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ خدا کے نشانات ظاہر ہورہے ہیں۔وہ انہیں اتفاق قرار نہیں دیتے۔کیونکہ وہ نشانات ایسے حالات میں ظاہر ہوتے ہیں جو بالکل مخالف ہوتے ہیں اور جن میں ان باتوں کا پورا ہونا بہت بڑا نشان ہوتا ہے۔پس ایک ایک صحابی جو فوت ہوتا ہے وہ ہمارے ریکارڈ کا ایک رجسٹر ہوتا ہے۔جسے ہم زمین میں دفن کر دیتے ہیں۔اگر ہم نے ان رجسٹروں کی نقلیں کرلی ہیں تو یہ ہمارے لئے خوشی کا مقام ہے اور اگر ہم نے ان کی نقلیں نہیں کیں تو یہ ہماری بدقسمتی کی علامت ہے۔بہر حال ان لوگوں کی قدر کرو ان کے نقش قدم پر چلو۔اور اس بات کو اچھی طرح یاد رکھو کہ فلسفیانہ ایمان انسان کے کسی کام نہیں آتا۔وہی ایمان کام آسکتا ہے جو مشاہدہ پر مبنی ہو۔اور مشاہدہ کے بغیر عشق نہیں ہوسکتا۔جو شخص کہتا ہے کہ بغیر مشاہدہ کے اسے محبت کامل حاصل ہوگئی ہے وہ جھوٹا ہے۔مشاہدہ ہی ہے جو انسان کو عشق کے رنگ میں رنگین کرتا ہے۔اور اگر کسی کو یہ بات حاصل نہیں تو وہ سمجھ لے کہ فلسفہ انسان کو محبت کے رنگ میں رنگین نہیں کر سکتا۔فلسفہ دوئی پیدا کرتا ہے۔۴۲