اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 103 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 103

۱۰۳ انہیں اس کا بدلہ دے دیا ہے کہ اگر ان کا خاندان حس رکھتا ہو تو اس سے بہت بڑی عبرت حاصل کر سکتا ہے۔اسی طرح باقی لوگ بھی جوان کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں وہ اس سے عبرت حاصل کر سکتے ہیں۔اچھی بھی اور بری بھی۔۔میں اس وقت منشی ظفر احمد صاحب کی وفات اور ان کے جنازہ کا ذکر کر رہا تھا۔میں نہیں کہہ سکتا کہ ان کے جنازہ میں کتنے لوگ شامل ہوئے۔کیونکہ مجھے اس کے متعلق کچھ بتایا نہیں گیا۔مگر میں سمجھتا ہوں لوگوں کو یہ احساس ہونا چاہیئے کہ وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوئی کے ابتدائی ایام میں آپ پر ایمان لائے۔آپ سے تعلق پیدا کیا۔اور ہر قسم کی قربانیاں کرتے ہوئے اس راہ میں انہوں نے ہزاروں مصیبتیں اور تکلیفیں برداشت کیں۔ان کی وفات جماعت کے لئے کوئی معمولی صدمہ نہیں ہوتا۔میرے نزدیک ایک مومن کو اپنی بیوی اپنے بچوں۔اپنے باپ۔اپنی ماں اور اپنے بھائیوں کی وفات سے ان لوگوں کی وفات کا بہت زیادہ صدمہ ہونا چاہیئے۔اور یہ واقعہ تو ایسا ہے کہ دل اس کا تصور کر کے اور در دمند ہوتا ہے۔کیونکہ منشی ظفر احمد صاحب ان آدمیوں سے آخری آدمی تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ابتدائی ایام میں اکٹھے رہے اور یہ ایک عجیب بات ہے کہ یہ رتبہ پنجاب کی دوریاستوں کو ہی حاصل ہوا ہے۔پٹیالہ میں میاں عبداللہ صاحب سنوری کو خدا تعالیٰ نے یہ رتبہ دیا اور کپورتھلہ میں منشی اروڑے خاں صاحب عبدالمجید خان صاحب کے والد منشی محمد خاں صاحب اور منشی ظفر احمد صاحب کو یہ رتبہ ملا۔یہ چار آدمی تھے جن کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ دعوئی ماموریت اور بیعت سے بھی پہلے کے تعلقات تھے کہ ایک منٹ کے لئے بھی دور رہنا برداشت نہیں کر سکتے تھے۔پس ایسے لوگوں کی وفات