اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 95 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 95

۹۵ ان کے چہرے کا رنگ ایک دھلی ہوئی چادر کی طرح سفید پڑ گیا تھا۔اور بعد میں انہوں نے اپنی کتاب ” احمد یہ موومنٹ میں اس واقعہ کا خاص طور پر ذکر بھی کیا اور لکھا کہ جس شخص نے اپنی صحبت میں اس قسم کے لوگ پیدا کئے ہیں۔اسے ہم کم از کم دھو کے باز نہیں کہہ سکتے کاش مسٹر والٹر کا ذہن اس وقت زمانہ حال سے ہٹ کر تھوڑی دیر کے لئے ماضی کی طرف بھی چلا جاتا۔اور وہ انیس سو سال پہلے کے مسیح ناصری کے حواریوں کا بیسویں صدی کے مسیح محمدی کے حواریوں کے ساتھ مقابلہ کر کے دیکھتے کہ وہاں تو مسیح ناصری کے خاص حواریوں میں سے ایک نے چند روپے لے کر مسیح کو پکڑوا دیا اور دوسرے نے جو بعد میں مسیح کا خلیفہ بننے والا تھا لوگوں کے ڈر سے مسیح پر کئی دفعہ لعنت بھیجی اور یہاں خدا کے برگزیدہ محمدی مسیح کو ایسے جانثار پروانے عطا ہوئے جن کی روح کی غذا ہی مسیح کی محبت تھی۔اور جو ہر وقت اسی انتظار میں رہتے تھے کہ ہمیں اپنے آقا پر قربان ہونے کا کب موقعہ ملتا ہے۔اور پھر کاش مسٹر والٹر اس وقت اپنے خداوند مسیح کا یہ قول بھی یاد کر لیتے کہ ” درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے، مگر شائید ان کا خیال اس طرف گیا ہو۔اور شادئید ان کی اس وقت کی گھبراہٹ اسی خیال کی وجہ سے ہو۔کون کہہ سکتا ہے؟ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کی دوروایتیں الغرض حضرت منشی ظفر احمد صاحب مرحوم ایک خاص طبقہ کے فرد تھے جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ عشق تھا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی ان لوگوں کے ساتھ خاص محبت تھی اور اپنے چھوٹے عزیزوں کی طرح ان سے محبت کرتے اور ان کے ساتھ بے تکلفی کا رنگ رکھتے تھے۔مجھے خوشی ہے کہ میرے پاس منشی ظفر احمد صاحب کی بہت سی